Total Pageviews

Monday, 28 June 2021

دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنے میں مدد دینے والی آسان عادات

 

 جون 29, 2021


یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ لوگ جسمانی صحت پر تو توجہ دیتے ہیں مگر دماغی نشوونما کو نظرانداز کردیتے ہیں۔


درحقیقت دماغ ہمارے جسم کا ایسا حصہ ہے جس کو عمر بڑھنے سے آنے والی تنزلی سے تحفظ دینے میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی بلکہ آپ کسی بھی عمر میں چند عادات یا چیزوں کو اپنا کر ذہنی طور پر جوان رہ سکتے ہیں۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ دماغ اتنا بوڑھا ہوچکا ہے کہ نئی چیزیں نہیں سیکھ سکتا بلکہ دماغٰ تنزلی سے بچنا ممکن نہیں تو جان لیں دماغی عصبی خلیات اس حصے میں مسلسل بنتے رہتے ہیں جو یادوں کے تجزیے کا کام کرتے ہیں اور یہ عمل 90 سال کی عمر کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔




کینیڈا کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغ کو مضبوط بنانے والی عادات کو روزمرہ کا معمول بنانا بڑھاپے اور امراض کے خلاف زیادہ مزاحمت میں مدد دیتا ہے۔ایسی ہی چند آسان سی عادات کے بارے میں جانیں جو دماغ کو جسمانی عمر میں اضافے کے باوجود بوڑھا نہیں ہونے دیتیں۔


طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ درمیانی عمر میں روزانہ 10 ہزار یا اس سے زائد قدم چلتے ہیں، ان کا دماغ ہم عمر ساتھیوں کے مقابلے میں اوسطاً 2.2 سال زیادہ جوان ہوتا ہے۔ مزید براں 2018 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر کے ساتھ فٹنس برقرار رکھنا درمیانی عمر یا بڑھاپے میں ڈپریشن سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسمانی سرگرمیاں ورم کو کم کرکے ایسے کیمیکلز کے اخراج کے عمل کو متحرک کرتی ہیں جو دماغی خلیات اور دماغی شریانوں کی نشوونما کو حرکت مین لاتے ہیں۔ جسمانی سرگرمیاں ذہنی تناﺅ اور نیند کو بھی بہتر کرتی ہیں جس سے بھی دماغ کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔


 *سبز سبزیاں* 

طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ کم از کم ایک بار سبز سبزیاں کھاتے ہیں وہ ایسے افراد جو کبھی کبھار ان سبزیوں کو کھاتے ہیں ان سے، دماغی طور پر 11 سال زیادہ جوان ہوتے ہیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ پالک اور ساگ وغیرہ میں موجود ایک جز لیوٹین اس کی وجہ ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ لیوٹین دماغ کے گرے میٹر کی شرح بڑھانے میں مدد دیتا ہے، گرے میٹر کا تعلق یاداشت سے ہوتا ہے، آپ جتنا زیادہ سبز سبزیوں کی شکل میں لیوٹٰن کو جزوبدن بنائیں گے، طویل المعیاد بنیادوں پر دماغ کو اتنا ہی فائدہ حاصل ہوگا۔


 *دماغی آزمائش کے کھیل* 

اخبارات میں آنے والے کراس ورڈ یا معمے، شطرنج یا کسی بھی قسم کا دماغ کو متحرک کرنے والا کھیل لوگوں کی دماغی عمر کو 8 سال تک کم کرسکتی ہے، درحقیقت ایسے افراد کی مسائل حل کرنے کی ذہنی صلاحیت اپنے سے ایک دہائی چھوٹے افراد کے برابر ہوسکتی ہے۔


 *بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں* 

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو کہ بلڈ پریشر بڑھنے کے نتیجے میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، مگر عمر کی چوتھی، 5 ویں یا چھٹی دہائی میں فشار خون کا شکار ہونا بعد کی زندگی میں ذہن کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔


 *نیند کی اہمیت کو سمجھیں* 

طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ عمر کے ساتھ بھی دماغی کارکردگی برقرار رہے تو اچھی نیند کو ترجیح بنائیں۔ طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ اچھی اور گہری نیند ایسے ہارمونز کی نشوونما کے لیے ضروری ہے جو صحت مند دماغی عمل جیسے یاداشت اور ہوشیاری وغیرہ کو تنزلی سے بچاتے ہیں۔ ہمارا دماغ مختلف نقصان دہ اجزا جیسے امینو ایسڈ، بیٹا ایمیلوئیڈ کی صفائی کا کام نیند کے دوران کرتا ہے، اگر نیند کا معیار ناقص ہو تو اس کچرے کی صفائی نہیں ہوتی اور وہ جمع ہونے لگتا ہے۔ بیٹا ایمیلوئیڈ الزائمر کا باعث بننے والا اہم ترین عنصر ہے۔


جنک فوڈ سے گریز

اپنے پیٹ کو فاسٹ یا جنک فوڈ سے بھرنا دماغ میں مدافعتی خلیات کو متحرک کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں کم درجے کے ورم کا سامنا ہوسکتا ہے جو الزائمر امراض کا ایک اہم سبب ثابت ہوتا ہے۔ 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جنک یا پراسسیس غذاﺅں کا استعمال دماغی ٹشوز کا حجم گھٹاتا ہے اور ڈیمینشیا یا دماغی تنزلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ زندگی بھر فاسٹ فوڈ ہی کھاتے رہے ہیں تو اب بھی صحت بخش غذا کو اپنالینا دماغی تنزلی کا خطرہ کم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔


اچھے دوست بھی دماغ کے لیے فائدہ مند

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مطابق جذباتی سپورٹ دماغی کے ایسے مخصوص حصوں میں تحرک پیدا کرتی ہے جو ایسے مرکب یا مالیکیول بنانے میں مدد دیتے ہیں جو دماغی خلیات کی مرمت کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے جبکہ وہ نئے کنکشن بھی بناتے ہیں۔ سماجی طور پر الگ تھلگ ہوجانے کے حوالے سے 2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں اس مرکب کی سطح میں کمی آتی ہے اور الزائمر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ محققین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ سماجی روابط میں کمی آتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ جو آپ کے دوست ہیں، ان کے ساتھ تعلق کو زیادہ مضبوط بنائیں۔


 *بیریز کو کھانا عادت بنائیں* 

اسٹرابیری، بلیو بیری، شہتوت یا کسی بھی قسم کی بیری دماغی صحت کے لیے بہترین ثابت ہوتی ہے، اس کی وجہ ان میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی ہے جو تکسیدی تناﺅ کے خلاف لڑتے ہیں۔ تکسیدی تناﺅ دماغ کو تحفظ دینے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی ایک قسم ڈی ایچ اے کی سطح میں کمی لاتا ہے۔ ہفتے میں چند بار کچھ مقدار میں بیریز کو کھانا ڈی ایچ اے کی سطح کو تحفظ فراہم کے دماغی افعال درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آسان الفاظ میں ایک ہفتے میں 3 یا 4 بار اسٹرابیری کھا کر یاداشت کی کمزوری کا خطرہ ڈھائی سال تک کم کیا جاسکتا ہے۔


 *مراقبہ کرنا* 

ایک تحقیق میں 50 سال کی عمر میں مراقبہ کرنے والے افراد کا جائزہ لیا گیا تو دریافت ہوا کہ ایسے افراد کے دماغ اپنی عمر کے افراد کے مقابلے میں اوسطاً ساڑھے 7 سال جوان ہوتے ہیں۔ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ 50 سال کی عمر کے بعد ہر گزرتے سال کے ساتھ مراقبے کی عادت دماغی عمر میں ایک مہینہ 22 دن کی کمی لاتی ہے۔


 *مچھلی سے لطف اندوز ہوں* 

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی قسم ڈی ایچ اے دماغی افعال کو معمول پر رکھنے اور موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے، یہ فیٹی ایسڈز ہمارا جسم خود بنانے سے قاصر ہوتا ہے تو اسے غذا سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔ مچھلی کا گوشت خصوصاً زیادہ چربی والی مچھلیوں میں ڈی ایچ اے پایا جاتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہفتے میں ایک بار مچھلی کھانا سوچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے اور یہ ان افراد کے لیے بھی فائدہ مند ہے جن میں الزائمر امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔


 *ذیابیطس سے بچیں* 

پری ڈائیبیٹس اور ذیابیطس کے شکار افراد کو طویل المعیاد یاداشت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر مریض بلڈ شوگر لیول کو معمول پر رکھیں یا پری ڈائیبیٹس کے شکار افراد ذیایبطس کے شکار ہونے کے عمل کو سست کردیں تو ان کی دماغی صحت بھی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔


 *گریاں کھائیں* 

گریوں کو دماغی غذا سمجھا جاتا ہے خصوصاً اخروٹ میں صحت بخش اومیگا تھری فیٹی ایسڈ الفا لینولینک ایسڈ موجود ہوتے ہیں جو جسم میں جاکر اومیگا تھری ڈی ایچ اے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کی اہمیت کا ذکر اوپر ہوچکا ہے جو دماغی افعال کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔ اخروٹ کھانا عادت بنانا تیزی سے فیصلہ کرنے، ذہنی لچک اور بہتر یاداشت میں بھی مدد دیتا ہے۔اگر اخروٹ پسند نہیں تو ایسے افراد جن کی عمریں 55 سال سے زائد ہے وہ روزانہ 10 گرام بادام یا مونگ پھیلی کھا کر ذہن کو تیز رکھ سکتے ہیں۔


 *تناﺅ میں کمی لائیں* 

ذہنی تناﺅ بذات خود تو کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس پر ہے کہ ہمارا جسم اس پر کیسے ردعمل کا اظہار کرتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا کہ جو پرتناﺅ حالات میں منفی انداز سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں، ان کی ذہنی توجہ اور دماغی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ ذہنی تناﺅ پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے والے افراد ذہنی آزمائش کے امتحانات میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔


 *کچھ نیا سیکھیں* 

2014 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو ذہن مصروف رکھنے والے مشغلوں کو اپنالینا چاہیے جس سے یاداشت اور تجزیے کی رفتار میں بہتری آتی ہے۔ محققین کے خیال میں تخلیقی صلاحیت کو جلا دینے والے مشغلے دماغی دفاع کو مضبوط کرتے ہیں، ویسے ضروری نہیں کہ کچھ نیا سیکھنے کے لیے 60 سال کی عمر کا انتظار کیا جائے، ایک اور تحقیق کے مطابق کسی بھی عمر میں دماغی طور پر کچھ نیا سیکھنا ذہنی تحفظ کو بہتر کرتا ہے۔

Thursday, 29 April 2021

پلاسٹک کی ایجاد

 پلاسٹک کیسے ایجاد ہوا...؟


یہ ایک اتفاقی ایجاد تھی

بیلجین کیمیا داں " لیو بیک لینڈ" 1907ء میں لاکھ یا سُریش کا متبادل بنانے کے لیے تجربات کر رہا تھا۔ جس کو وہ مختلف پارسل کو بند کرنے کے لئے تیار کرنا چاہ رہا تھا۔ اس نے فامل ڈی ہائیڈ اور کول تار سے حاصل کردہ ایک تیزابی محلول فینائل کو ملا کر سریش بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام ہو گیا۔ 


بہرحال اس نے اس محلول میں لکڑی کا بُرادہ اور ایسبیسٹاس ملا کر اسے ایک کڑاھی میں ڈال کر پکایا تو ایک ایسا مادّہ تیار ہو گیا جو لچک دار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مضبوط اور حرارت برداشت کرنے والا بھی تھا۔ 


اس نے اپنی اس اتفاقی ایجاد کو ’’بیک لائٹ‘ ‘ کا نام دیا۔ وہ اسے ’’ہزاروں استعمالات والا مادّہ‘‘ کہا کرتا تھا۔ جلد ہی اس مادّے کا استعمال عام ہو گیا اور اس میں بہتری سے بہتری کے لئے تجربات ہونے شروع ہوگئے ۔ 


جو چیزیں پہلے لکڑی، ہاتھی دانت، سنگِ مرمر سے بنائی جاتی تھیں اور عام لوگ انہیں خرید نہیں سکتے تھے اب اس مادّے سے تیار کی جانے لگیں۔ 


اس حیرت انگیز ایجاد نے ہماری زندگیوں کا رخ ہی تبدیل کردیا۔ اب آپ کو فرنیچر' کھلونوں 'جہازوں' گاڑیوں' دفاتر' گھروں' الیکٹرونکس اشیاء وغیرہ وغیرہ ہرجگہ پلاسٹک کا استعمال باکثرت نظر آئے گا۔


بہرحال پلاسٹک 1907ء میں اتفاقی طور پر ایجاد ہوا تھا۔ اور یہ بھی ا للہ کا ہی فضل ہے ۔جو اس نے حضرت انسان پر فرمایا ہے۔ بس اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توقیق عطاء فرمائے...

Wednesday, 7 April 2021

لڑکی کو رشتہ کے انتخاب کا حق اور شادی کے بعد میکہ سے اس کا تعلق

 لڑکی کو رشتہ کے انتخاب کا حق اور شادی کے بعد میکہ سے اس کا تعلق

 حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

(ترجمان  و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) 

        اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے، ان میں ایک اہم ترین نعمت اولاد ہے، اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں شامل ہیں، اگر بچوں کی پیدائش کے وقت ان کی جسمانی کیفیت اور قُویٰ کو دیکھا جائے تو اس لحاظ سے ان کی پرورش کوئی آسان بات نہیں ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے دل میں ان کے لئے محبت کا اتھاہ خزانہ رکھ دیا ہے، وہ خوبصورت ہو یا بد صورت ، خوش اخلاق ہو یا بداخلاق، یہاں تک کہ والدین کا فرمانبردار ہو یا نافرمان ، ماں باپ ان سے محبت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، یہی محبت ان کی پرورش وپرداخت کا ذریعہ بنتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے کہ جو زیادہ کمزور ہوتا ہے، اس کی طرف والدین کی توجہ بڑھ جاتی ہے، وہ صحت مند کے مقابلہ بیمار اور جوانی کی دہلیز پر پہنچی ہوئی اولاد کے مقابلہ کم عمر، کم سِن اور کم شعور بچوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، اسی اصول پر بیٹوں کے مقابلہ بیٹیوں کے لئے بعض پہلوؤں سے ان کی فکر بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔

    اولاد کی فطرت میں بھی یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ ماں باپ کے جتنے زیادہ محتاج ہوتے ہیں، اتنے ہی زیادہ اپنے والدین سے لگے چمٹے رہتے ہیں، شیر خوار بچہ غذا کھانے والے بچوں کے مقابلہ اور غذا لینے والے بچوں کے مقابلہ اور بڑے لڑکے اور لڑکیاں نسبتاََ والدین کی دوری کو گوارا کر لیتے ہیں، یہی حال لڑکوں اور لڑکیوں کا ہے، لڑکوں پر والدین کی دوری اتنی شاق نہیں گزرتی، جتنی لڑکیوں پر ؛ اسی لئے عام طور پر لڑکیوں میں اپنے ماں باپ سے تعلق، ان کی خدمت کا جذبہ اور ان کے لئے ایثار ومحبت کسی قدر زیادہ ہوتی ہے، اور شادی کے بعد تو اس سلسلہ میں کافی فرق آجاتا ہے، بیٹوں کی توجہ بیوی اور بچوں کی طرف بڑھ جاتی ہے اور بعض اوقات والدین کی طرف کم ہو جاتی ہے، بیٹی اپنی سسرال میں اگرچہ بے بس ہوتی ہے؛ لیکن والدین کی محبت اس کو ہمیشہ تڑپاتی اور بے قرار رکھتی ہے؛ اور وہ خود بھی اپنی مجبوری اور بے کسی کی وجہ سے ماں باپ کی زیادہ محبت اورتوجہ کی محتاج ہوتی ہیں؛ اسی لئے اسلام نے بہ مقابلہ بیٹوں کے بیٹیوں کی محبت کے ساتھ پرورش اور ان کے ساتھ حُسن سلوک کی زیادہ تاکید کی ہے؛ بلکہ جو شخص محبت کے ساتھ اپنی بیٹی کی پرورش کرے اور بیٹے کو بیٹی پر ترجیح نہیں دے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو جنت میں آپ کی رفاقت کی خوشخبری دی ہے۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۵۱۴۶)

    مگر جب سماج میں بگار آتا ہے تو عورتوں کے ساتھ خود اپنوں کی طرف سے بڑی زیادتی ہوتی ہے، یہ صورت حال آج بھی ہے اور پہلے بھی رہی ہے ، خود ہمارے ملک میں برادران وطن کا تصور تھا کہ عورت اپنی اصل کے اعتبار سے مرد کی ملکیت ہے، شادی سے پہلے وہ باپ کی ملکیت میں ہے اور باپ کو اختیار ہے کہ وہ جہاں اور جس سے چاہے اپنی بیٹی کی شادی کر دے، اور شادی کے بعد وہ شوہر کی ملکیت ہے؛ اسی لئے ان کے یہاں شادی کو’’ کنیا دان ‘‘کہا گیا ، وہ باپ اور شوہر کی ملکیت سے اپنی مرضی سے آزاد نہیں ہو سکتی؛ چنانچہ ان کے یہاں طلاق کا تصور نہیں تھا، یہاں تک کہ ’’ ستی ‘‘ کی رسم قائم ہوئی، اسلام نے عورتوں کو عزت کا مقام دیا، ان کو قریب قریب مردوں کے برابر حقوق دئیے، والدین پر نہ صرف ان کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داری رکھی؛ بلکہ مختلف مواقع پر فطری حالات کی رعایت کرتے ہوئے لڑکیوں کا زیادہ خیال رکھا۔

    مگر افسوس کہ آج مسلم معاشرہ میں بھی لڑکیوں کے ساتھ بڑی ظلم وزیادتی ہوتی ہے، ان میں دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں، جن کا اثرلڑکی کی پوری زندگی پر پڑتا ہے، ایک: رشتۂ نکاح میں لڑکیوں کی رضامندی اور خوشنودی کا لحاظ نہ کرنا، شرعاََ جیسے لڑکے کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہو سکتا، اسی طرح لڑکی کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہو سکتا؛ بلکہ لڑکوں سے بڑھ کر لڑکیوں کی رضامندی کا لحاظ کرنا ضروری ہے، اگر رشتہ میں موافقت نہیں ہوئی تو لڑکا تو طلاق دے کر اپنا دامن چھڑا سکتا ہے، وہ جسمانی اعتبار سے بھی طاقتور اور کسب معاش کی جدوجہد کا اہل ہوتا ہے؛ لیکن لڑکی کے لئے شوہر سے علاحدگی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا، وہ جسمانی طور پر بھی کمزور ہوتی ہے اور حفاظتی ضرورت نیز فطری عوارض کی وجہ سے کسب معاش کے میدان میں بھی مرد سے پیچھے ہوتی ہے؛ اس لئے وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ رشتہ کے انتخاب میں اس کی پسند کا خیال رکھا جائے۔

     ایک لڑکی کا نکاح اس کے والد نے اس کی پسند کے خلاف کر دیا ، انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتہ کو رد فرمایا۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۲۱۰۱)اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ باپ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند بیٹی پر تھوپ دے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر والد نے لڑکی کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کا رشتہ طئے کر دیا تو لڑکی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے، نہ یہ بے حیائی ہے اور نہ بغاوت اور نہ والد کی عدول حکمی، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا رشتہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طئے فرمایا تو حضرت فاطمہؓ کی مرضی معلوم کی، پھر یہ قدم اٹھایا؛ لیکن آج کل مزاج، معاشی صورت حال، معیار زندگی اور معیار تعلیم کا فرق کئے اور لڑکیوں سے ان کی مرضی معلوم کئے بغیر ان کا رشتہ طئے کر دیا جاتا ہے، یہ ظلم اور ایک غیر شرعی عمل ہے۔

    راقم الحروف کو بعض احباب کی خواہش پر دہلی میں ایک نکاح پڑھانے کا موقع ملا، عاقدین کا تعلق غالباََ میوات سے تھا، میں نے خطبہ دینے سے پہلے لڑکی کے والد کو قریب بلایا اور ان سے دریافت کیا :کیا آپ نے نکاح کی اجازت لے لی ہے؟ کہنے لگے: کیا مطلب؟ میں نے کہا: لڑکی سے اس رشتہ کے بارے میں پوچھ لیا ہے؟ کہنے لگے: میں اس کا باپ ہوں، میں اس سے پوچھوں گا اور اجازت لوں گا؟؟ ظاہر ہے اس طرح کی بات اس وقت پیش آتی ہے جب سماج میں اس طرح کا مزاج بنا ہوا ہو؛ اس لئے آج بھی دیہات اور قریہ جات میں بسنے والے بہت سے ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے لوگ لڑکی سے نکاح کی پسند معلوم کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے۔

    اسی طرح اگر کسی لڑکی نے کسی خاص لڑکے سے نکاح کا رجحان ظاہر کر دیا تو اس کو بہت ہی بُرا سمجھا جاتا ہے، گھر میں قیامت آجاتی ہے، ہر آدمی اس لڑکی کو لعنت ملامت کرتا ہے اور ہر طرف سے اس پر طعن وتشنیع کے تیر برسنے لگتے ہیں، یہ غیر اسلامی اور جاہلانہ طرز فکر ہے، بعض خواتین نے کسی خاص مرد سے نکاح کا ارادہ کیا؛ مگر ان کے اولیاء رکاوٹ بننے لگے تو قرآن نے اس طرز عمل کو منع فرمایااور اولیاء کو صاف طور پر کہا گیا کہ انہیں اس میں رُکاوٹ بننے کا کوئی حق نہیںہے: فلا تعضلوھن أن ینکحن أزواجھن (بقرہ: ۲۳۲)متعدد صحابیات کے واقعات موجود ہیں کہ انھوں نے اپنی پسند سے اپنا نکاح کیا، خود ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ کے نکاح میں ام المؤمنینؓ ہی نے پیش قدمی فرمائی تھی؛ اس لئے یہ ضرور ہے کہ نوجوان لڑکے ہوں یا لڑکیاں، ان کو اپنے رشتہ کے سلسلہ میں اولیاء کے مشورہ کو خصوصی اہمیت دینی چاہئے؛ کیوں کہ عموماََ ان کا مشورہ محبت اور تجربہ پر مبنی ہوتا ہے، اور یہ بات دیکھی گئی ہے کہ جو رشتے اولیاء کو اعتماد میں لئے بغیر کئے جاتے ہیں، اکثر ناکام ثابت ہوتے ہیں، ان میں عقل کے بجائے جذبات اور مصلحت کے بجائے خواہشات کا زور ہوتا ہے؛ لیکن بہر حال یہ بات ملحوظ رکھنی ضروری ہے کہ شریعت نے بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے اور ان کے اولیاء کو صرف مشورہ دینے کا۔

    جب کوئی رشتہ لڑکے یا لڑکی پر زبردستی تھوپ دیا جاتا ہے تو وہ اول دن سے ہی تلخیوں اور کڑواہٹوں کا شکار ہوتا ہے، اور نکاح کا جو اصل مقصد ہے: پُر سکون زندگی کا حصول : لتسکنوا الیھا (روم: ۲۱)وہی فوت ہو جاتا ہے، اس لئے اس سے بچنے کی ضرورت ہے، بالخصوص موجودہ دور میں جب کہ تعلیم میں لڑکیاں لڑکوں پر سبقت حاصل کر رہی ہیں، اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر کامیابی کے ساتھ ملک وقوم کی خدمت کر رہی ہیں، تو ہر گز یہ رویہ درست نہیں ہو سکتا کہ ان کو اپنی ذات کے معاملہ میں فیصلہ کرنے سے محروم کر دیا جائے۔

    دوسرا اہم مسئلہ جو بے حد سنگین ہے اور جس کی وجہ سے بعض اوقات خود کشی جیسے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، وہ ہے شادی کے بعد لڑکی کا اپنے میکہ سے تعلق ، یہ بات معاشرہ میں زبان زد ہو گئی ہے کہ جس گھر میں’’ ڈولی‘‘ جائے اس گھر سے ’’ڈولا ‘‘نکلے، یعنی لڑکی جب اپنے سسرال جائے تو وہ یہ سمجھ کر جائے کہ اسے پوری زندگی وہیں گزارنا ہے، یہ اس حد تک تو صحیح ہے کہ لڑکیوں کو تیار کیا جائے کہ زندگی میں سردوگرم حالات آتے ہیں ، ان کو برداشت کر کے رشتہ نکاح کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس پس منظر میں لڑکیوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اب سسرال تمہارا اپنا گھر ہے اور میکہ پرایا؛ لیکن اس کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ لڑکیوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھا دی جاتی ہے کہ چاہے شوہر سے موافقت ہو یا نہ ہو، چاہے شوہر ظلم وزیادتی کا مرتکب ہو ؛ لیکن بہر حال رہنا اسی کے ساتھ ہے، جب ماں باپ اس طرح کی بات کہتے ہیں تو یہی بات لڑکی کے بھائیوں کے ذہن میں گھر کر جاتی ہے، اور بیٹی کا اپنے میکہ میں آنا بھاوجوں کے دل میں تو بہت ہی کھٹکنے لگتا ہے، وہ ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کرتی ہیں، جو کسی بِن بلائے مہمان کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اگر کسی وجہ سے اپنے سسرال میں اس کا گزر نہ ہو سکے تو اس غریب پر قیامت آجاتی ہے؛ حالاں کہ ایسا صرف لڑکی کی بدمزاجی سے نہیں ہوتا ہے ، لڑکے اور ان کے گھر والوں کی بداخلاقی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، یہاں تک کہ بعض دفعہ اس کو سسرال سے نکال دیا جاتا ہے، کبھی تو بچوں کا بوجھ بھی اس کے کاندھوں پر رکھ دیا جاتا ہے، اور کبھی حد درجہ شقاوت کا اظہار کرتے ہوئے بچے بھی اس کی گود سے چھین لئے جاتے ہیں، اگر ان حالات میں میکہ بھی اس کے لئے پرایا گھر بن جائے تو وہ اپنے آپ کو بالکل بے سہارا محسوس کرتی ہے، یہ ایک بے حد تکلیف دہ صورت حال ہے جو سماج میں پیش آتی ہے، اگر شوہر نے دوسری شادی کر لی تو شادی تو وہ  شریعت کا نام لے کر کرتا ہے؛ لیکن دوسری شادی کے بعد اسلام میں عدل وانصاف کے جو احکام دیے گئے ہیں، ان کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے، اگر شوہر نے یہ رویہ اختیار کیا، یا طلاق دے دی، یا خدا نخواستہ اس کا انتقال ہو گیا تب بھی بعض اوقات عورتیں اسی صورت حال سے دو چار ہوتی ہیں۔

    اگر چہ اس ظلم وزیادتی کے مختلف عوامل ہیں؛ لیکن ایک اہم سبب یہ تصور ہے کہ شادی ہو جانے کے بعد لڑکی کا اپنے میکہ میںکوئی حق نہیں ہے، وہ اس کے لئے پرایا گھر ہے، ایسی بے سہارا لڑکیاں جب کوئی جائے پناہ نہیںپاتیں، نہ والدین ان کو قبول کرنے کو تیار ہیں نہ سسرال والے، تو ان پر مختلف قسم کا رد عمل ہوتا ہے، بعض لڑکیاں ڈپریشن کا شکار ہو کر دماغی عارضہ مین مبتلا ہو جاتی ہیں، بعض خود کشی کر  لیتی ہیں، وہ سمجھتی ہیں کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو چکی ہے، لڑکیوں کی خود کشی کے بہت سے واقعات اس طرح پیش آرہے ہیں، بعض اوقات کوئی راستہ نہ پا کر وہ گھر سے باہر نکل جاتی ہیں، اور مستقل طور پر غلط راستے پر پڑ جاتی ہیں اور بعض اوقات کسی غیر مسلم کے ساتھ اپنی شادی رچا لیتی ہیں، لوگ ایسی لڑکیوں کو لعنت ملامت کرتے ہیں؛ لیکن ان واقعات کے پیچھے جو حالات کار فرما ہیں، ان پر غور نہیں کرتے، اور جن لوگوں نے اس کا ارتکاب کیا ہے، ان کو تنبیہ نہیں کی جاتی۔

    بنیادی طورپر یہ بات سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ لڑکی کا نکاح کے بعد بھی اپنے میکہ اور والدین سے تعلق باقی رہتا ہے اور جیسے والدین کی اَملاک میں بیٹے کا حق ہوتا ہے، بیٹیوں کا بھی حق ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری لمحات میں تین باتوں کی خاص طور پر نصیحت فرمائی، ایک: بیوہ عورت کے ساتھ حسن سلوک، دوسرے: یتیم بچوں کے ساتھ، تیسرے: نماز کا اہتمام، (شعب الایمان، عن انس حدیث نمبر: ۱۰۵۴۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس نے کسی یتیم یا بیوہ کی کفالت کی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ میں جگہ دیں گے، اور جنت میں داخل فرما دیں گے، (المعجم الاوسط، حدیث نمبر: ۹۲۹۲) اگرچہ یہ ارشاد بیوہ اور یتیم کے بارے میں ہے؛ لیکن جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ دے یا گھر سے بے گھر کر دے، اور اس سے پیدا ہونے والے بچوں سے آنکھیں موند لے وہ عورت بھی اپنی صورت حال کے اعتبار سے بیوہ ہی کے درجہ میں ہوتی ہے، اور ان بچوں کو بھی یتیموں کی سی ہی زندگی گزارنی ہوتی ہے؛ اس لئے اُن کے ساتھ حُسن سلوک پر وہی اجر حاصل ہوگا، جس کا وعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیواؤں اور یتیموں کے ساتھ حُسن سلوک پر کیا ہے، اور پھر بیٹی بہن کے ساتھ حُسن سلوک میں تو صِلہ رحمی کا پہلو بھی ہے، جس کی قرآن میں بھی اور حدیث میں بھی بہت تاکید فرمائی گئی ہے۔

    باپ کے مال میں مقدار کے فرق کے ساتھ بیٹی کا بھی اسی طرح حق ہوتا ہے، جیسے بیٹوں کا ہوتا ہے؛ اسی لئے اس کے ترکہ سے جو رشتہ دار کسی صورت محروم نہیں ہو سکتے، وہ چھ ہیں، ان میں بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی۔ (الاختیار لتعلیل المختار: ۵؍ ۱۹۴) اگرچہ کہ ترکہ کی تقسیم میں ترکہ کے مطالبہ کا حق مورث کی موت کے بعد حاصل ہوتا ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص اپنے کسی وارث کو محروم کرنے کی تدبیر کرے ، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، تو وہ شرعاََ گناہ گار ہوگا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے حصہ سے اس کو محروم کر دیں گے۔ (ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۲۷۰۳) اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی اپنی ضروریات سے بچی ہوئی دولت میں ایک حد تک اس کے ورثاء کا حق ہوتا ہے، جس میں بیٹی بھی شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر باپ کوئی ایسا قدم اٹھائے جس کی وجہ سے وہ حق سے محروم ہو جائے تو باپ گناہ گار ہوتا ہے۔

    فقہاء نے شریعت کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ شادی تک لڑکیوں کا نفقہ باپ پر واجب ہے ،اور چاہے لڑکی کسب معاش پر قادر ہو، اگر باپ کے اندر نفقہ ادا کرنے کی صلاحیت ہو تو وہ بیٹی سے مطالبہ نہیں کر سکتا کہ وہ خود کمائے، اگر خدانخواستہ وہ مطلّقہ ہو جائے اور شوہر چھوڑ دے تو جیسے پہلے اس پر اس لڑکی کی پرورش کی ذمہ داری تھی، اب دوبارہ اس پر یہ ذمہ داری عائد ہو جائے گی: واذا طلقت وانقضت عدتھا عادت نفقھا علی الأب (فتح القدیر : ۴؍۴۱۰)

    اس لئے یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ شادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لڑکی کا اپنے خاندان اور اپنے ماں باپ سے تعلق ختم ہو گیا، اب وہ اس گھر کے لئے بے گانہ اور پرائی ہوگئی؛ بلکہ جتنا حق اس میں بیٹوں کا ہے، مقدار کے فرق کے ساتھ اسی طرح بیٹیوں کا بھی حق ہے، نہ ماں باپ اس کو مشکل حالات میں میکہ آنے اور یہاں بسنے سے روک سکتے ہیں، نہ بھائی اور بھاوجیں ان کو ان کے حق سے محروم کر سکتے ہیں، اور مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ظلم و زیادتی سہتے ہوئے سسرال میں ہی اپنا وقت گزاریں!!!

Tuesday, 23 March 2021

مونگ پھلی کے فوائد

  مونگ پھلی (Peanuts) 


مونگ پھلی (Peanuts) اگرچہ خشک میوہ نہیں ہے اور اس کی درجہ بندی پھلی کے طور پر کی جاتی ہے لیکن اس کے غذائی اجزا خشک میوے سے متماثل ہیں.


 جن لوگوں کو مونگ پھلی سے الرجی نہیں ہے، انھیں دل کی صحت کے فوائد کے لیے زیادہ سے زیادہ مونگ پھلی کھانی چاہیے، جو دوسرے میووں کےمقابلے میں کم قیمت بھی ہے. اور مناسب قیمتوں پر سردیوں میں باآسانی دستیاب ہوتی ہے جو جسم پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ کچی مونگ پھلی کی بجائے ہمیشہ بھنی ہوئی مونگ پھلی کھائی جائے تاکہ اس کے بہتر فوائد حاصل ہو سکیں۔


💕 غذائی اجزاء و فوئد

مونگ پھلی بہت سے اہم غذائی عناصر سے بھرپور ہوتی ہے، جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر کرتے ہیں۔ مونگ پھلی کا استعمال دل اور خون کی شریانوں کے عوارض، الزائمر اور سرطان سے بچانے میں مدد کرتی ہے اور بڑھاپے کے اثرات کو کم کرتی ہے۔


مونگ پھلی میں موجود 25 فیصد پروٹین انسانی جسم میں خلیوں کی تجدید میں مدد کرتا ہے. مونگ پھلی میں موجود متعدد غذائی عناصر جیسے فولک ایسڈ، تانبہ، نیاسن اور دیگر وٹامن انسانی صحت کیلئے فائد ہ مند ہیں. یہ عناصر دل اور شریانوں کا تحفظ کرتے ہیں اور نقصان دہ کولسٹرول کو کم کرتے ہیں جبکہ جرثوموں اور زہریلے مواد سے بھی محفوظ رکھتے ہیں. مونگ پھلی کا چھلکا اینٹی آکسیڈنٹس کا حامل ہوتا ہے. اس کے روغن میں پروٹین، اینٹی آکسیڈنٹس اور جسم کے لیے اہم معدنیاتی نمکیات ہوتے ہیں. مونگ پھلی میں ریشے کی بھی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ ریشہ وزن کم کرنے اور دمے سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے. قدرت کا یہ انمول تحفہ اپنے اندر ٹرپٹوفان بھی رکھتا ہے، جو جسم میں سیروٹونن مادہ پیدا کرتا ہے. یہ مادہ انسان کو ڈپریشن اور اعصابی تناؤ کی حالت سے بچا کر مزاج کو نارمل رکھنے میں مدد کرتا ہے۔


 مزید فوائد

♡ مونگ پھلی دبلے اور کمزور افراد کے لئے مفید ہے.

♡ کینسر سے محفوظ رکھنے میں ہماری معاون ہے۔

♡ مونگ پھلی میں پروٹین، کیلشیم، وٹامن ای، وٹامن بی ون، B6 اور فاسفورس شامل ہوتا ہے.

♡ مونگ پھلی سے اعصاب کو تقویت ملتی ہے۔

♡ ذیابطیس ٹائپ ٹو میں مونگ پھلی کا استعمال مریض کو فائدہ دیتا ہے۔

♡ مونگ پھلی کے استعمال سے انسولین کی سطح برقرار رہنے میں مدد ملتی ہے.

♡ مونگ پھلی میں موجود فولاد خون کے نئے خلیے بنانے میں مددگار ہوتا ہے.

♡ ایکسرسائز کرنے والے اس سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

♡ مونگ پھلی میں موجود وٹامنز ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔

♡ مونگ پھلی معدے اور پھیپھڑے کے لئے فائدہ مند ہے اور یہ دونوں اعضاء کو مضبوطی بخشتی ہے۔

♡ مونگ پھلی میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو غذائی لحاظ سے سیب، چقندر اور گاجر کے مقابلے میں وافر مقدار میں ہیں۔

♡ اگر آپ کے بال گر رہے ہیں تو مونگ پھلی کے استعمال سے ان میں کمی آ سکتی ہے.


🥜 احتیاط

♡ جسم میں خارش

جسم میں خارش ہونے صورت میں مونگ پھلی نہیں کھانا چاہئے اس سے خارش کے مرض میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔


♡ حاملہ خواتین

ڈاکٹر کے مشورے سے حاملہ خواتین مونگ پھلی کھانے کے بارے میں سوچیں کیونکہ اس سے الرجی ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اگر انہیں یہ خشک میوہ مرغوب ہے اور اسے کھانا چاہتی ہیں تو پہلے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رائے لے لیں، اسی طرح کھانسی کی صورت میں مونگ پھلی کا استعمال بالکل نہ کریں کیونکہ ایک تیل سے بھرپور میوہ ہے جو کھانسی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔


♡ معدے کے مریض

یرقان اور معدے کے مرض میں مبتلا افراد بھی مونگ پھلی کے زائد استعمال سے دور رہیں تاہم کم کھانے سے انہیں کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔


♡ سانس کے مریض

سانس کے مرض میں مبتلا یا دمہ کے مریضوں کو بھی مونگ پھلی کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان میں مبتلا کرسکتا ہے۔


♡ معدے میں تیزابیت

اسی طرح جن افراد کے معدے میں تیزابیت ہو ان کو بھی مونگ پھلی سے دور رہنا چاہئے کیونکہ خشک میوہ جات گرم تاثر رکھتا ہے اس لیے مونگ پھلی بھی تیزابیت یا معدے میں گرمی کے مرض میں اضافے کا سبب بنتی ہے تاہم صحت مند معدے کے لیے نقصان دہ نہیں ہے...

Saturday, 13 March 2021

निवड श्रेणी साठी आवश्यक कागदपत्रे...

 *निवड श्रेणी साठी आवश्यक कागदपत्रे....*

     एकाच पदावर 24 वर्षे सेवा झालेल्या कर्मचाऱ्यांनी निवड श्रेणी प्रस्तावासाठी खालील कागदपत्रे एका फाईल मध्ये लावून फाईल तयार करावी*.....

1) *निवड श्रेणी प्रस्ताव अर्ज*.

2) *आडव्या प्रपत्रात माहिती*.

3) *नोकरीला लागते वेळी असलेली शैक्षणिक पात्रता प्रमाणपत्र. जसे आपण नोकरीला लागते वेळी दहावी किंवा बारावीत असाल तर त्या वर्गाची मार्कशीट किंवा बोर्ड सर्टिफिकेट*. *सोबतच D.ed मार्क शीट*. 

4) *प्रथम नियुक्ती आदेश*.

5) *21 दिवसाचे सेवांतर्गत प्रशिक्षण पूर्ण झाल्याचे प्रमाणपत्र*.

6) *15 दिवसाचे निवडश्रेणी प्रशिक्षण पूर्ण झाल्याचे प्रमाणपत्र,नसल्यास प्रशिक्षण पूर्ण करण्यासाठी अर्ज*.

7) *जात वैधता प्रमाणपत्र*.

8) *तीन वर्षाचे गोपनीय अहवाल* (*मूळ प्रती*). *ज्या वर्षी सेवेची 24 वर्षे पूर्ण होत आहेत त्या वर्षीच्या अगोदरील तीन वर्षाचे गोपनीय अहवाल*.

9) *शैक्षणिक अहर्ता वाढ झाल्याचे प्रमाणपत्र. नोकरीला लागताना दहावी किंवा बारावी म्हणून सेवेत लागल्यानंतर पदवी किंवा पदव्युत्तर पदवी पूर्ण केल्याचे प्रमाणपत्र लावावे*.

10) *एम.एस.सी.आय.टी पूर्ण झाल्याचे प्रमाणपत्र* (ज्यांच्याजवळ असतील त्यांनी लावाव्यात 

Thursday, 28 January 2021

آم کھانے کے بیشمار فوائد

 آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اس کا صرف ذائقہ ہی لاجواب نہیں ہوتا بلکہ آم کھانے کے بیشمار فوائد ہیں ۔

جلد بوڑھا ہونے سے بچاتا ہے
طبی ماہرین کے مطابق آم وٹامن ای سے بھرپور ہے جس کے استعمال سے انسان صحت مند اور شاداب رہتا ہے جب کہ یہ وٹامن جلد کو ترو تازگی فراہم کرتے ہیںاور چہرے پر دانوں اور کیل مہاسوں سے بچاتے ہیں۔ آم میں شامل وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتا ہے جب کہ اس میں موجود وٹامن اے بینائی کو کمزور ہونے سے بچاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ پھل سورج کی تیز شعاعوں سے بھی آنکھوں کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔

 دمے سے محفوظ رکھتا ہے:
ماہرین کے مطابق آم میں موجود اجزا انسانی جسم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں اور جو لوگ آم کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے دمے کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں۔

کینسر سے بچاؤ  میں معاون:
طبی ماہرین کے مطابق آم میں شامل اینٹی آکسیڈنٹ آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے جب کہ گلے کے غدود کے کینسر کے خلاف بھی یہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق کولون یا بڑی آنت کے سرطان کے خلاف آم ایک اہم مدافعانہ ہتھیار ثابت ہوا ہے اورآم کھانے کے شوقین لوگوں میں اس سرطان کی شرح نمایاں طور پر کم دیکھی گئی ہے۔

ہڈیوں کی صحت کیلیے مفید:
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کا استعمال ہڈیوں کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے اس میں موجود کیلشیم  ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے اور آم کھانے کے شوقین افراد میں وقت سے پہلے ہڈیوں کی کمزوری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

ذیابطیس میں بھی کارآمد:
تحقیق کے مطابق آم میں موجود وٹامن اے ،بی،سی اور فائبر کے علاوہ 20 دیگر اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی گردش میں شکر کے جذب ہونے کے عمل کو کم کرتے ہیں۔ امریکی ماہرین کے مطابق آم میں موجود قدرتی مٹھاس کی مناسب مقدار شوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتی۔

نظام ہاضمہ کیلیے ضروری:
آم میں موجود ریشے جنہیں فائبر بھی کہا جاتا ہےآنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

دل کی صحت کیلیے مفید:
ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے آم ایک بہترین پھل ہے اس میں موجود  پوٹاشیم ،فائبر اور وٹامن دل کی صحت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں جب کہ اس میں موجود بڑی تعداد میں پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

انفیکشن کے خلاف مؤثر دوا:
ماہرین صحت کے مطابق تمام بیکٹیریا کا حملہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ جسم کی خارجی تہہ بنانے والی بافتیں کمزور ہوجاتی ہیں تاہم آم کے موسم میں اس کا آزادانہ استعمال بافتوں کی اس کمزوری کو دور کرتا ہے چنانچہ بیکٹیریا کا جسم میں داخلہ ممکن نہیں رہتا اس کیفیت کے بعد پے در پے انفیکشن مثلاً نزلہ‘ زکام اور ناک کی سوزش رونما نہیں ہوئی۔ اس تحفظ کی وجہ آم میں پائی جانے والی وٹامن اے کی وافر مقدار ہے...

Wednesday, 13 January 2021

پہلے نکاح یا پہلے کیرئیر؟


         ہائیر ایجوکیشن کے نام پر لڑکیوں سے دشمنی!!!!!!!!!!! 

ؒلڑکیوں کی ہایئر ایجوکیشن کی پرزور وکالت کرنے والے دانشوروں سے آج ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لڑکیاں سوال کررہی ہیں کہ آج ہماری عمریں تیس سال سے تجاوز کرچکی ہیں، اب ہم سے شادی کون کرے گا کیونکہ جو بھی رشتہ آتا ہے انہیں بیس بائیس سال کی لڑکی چاہئے۔ کل تک جہیز سب سے بڑی رکاوٹ تھی، لیکن اب میچنگ سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔پہلے لڑکی اگر خوبصورت نہ بھی ہو خوب جہیز کی رشوت دے کر لڑکے کے ماں باپ کا منہ بند کرنا آسان تھا، لیکن اب ہائیر ایجوکیشن کی وجہ سے لڑکیوں کی عمر کی میچنگ، ان کی ڈگری کی میچنگ اور پھر ان کی تنخواہ کی میچنگ ملنا ناممکن ہوگیا ہے۔ ہمارے نام نہاد تعلیم یافتہ کچھ حضرات نے اس موضوع پر ہمارا ویڈیو سن کر اعتراض کیا کہ ”آپ ایک ڈاکٹر ہوتے ہوے بھی مولویوں اور ملّاؤں جیسی فرسودہ باتیں کررہے ہیں، لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم سے ”قوم کی ترقی“ ہے۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کی رٹ لگانے والوں سے پہلے چند سوالات ہیں جن کاجواب ان کے پاس کوئی نہیں۔ 
ا۔ ایجوکیشن کا مقصد کیا ہے؟   ۲۔ قوم سے اِن کی کیا مراد ہے؟  ۳۔ قوم کی ترقی کی ان کے پاس کیا تعریف ہے؟ ۴۔ اسلام چاہتا ہے کہ پہلے نکاح ہو بعد میں کیرئیر، یہ صحیح ہے یا غلط؟
قوم سے مراد  کیا انڈین پاکستانی یا عرب معاشرہ ہے؟  ہمارے پاس قوم سے مراد صرف ”قومِ رسولِ ہاشمی“ ہے۔اس قوم میں اور دوسری قوموں میں یہی فرق ہے کہ اس قوم کے لیڈر محمد الرسول اللہ ﷺ نے زندگی کا ایک مکمل راستہ، ایک مکمل دستور دیا ہے۔ اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب ایسا نہیں ہے جس نے زندگی گزارنے کا مکمل دستو ر دیا ہو۔ وہ لوگ ہماری قوم کے لوگ ہی نہیں جو مسلمان تو کہلوانا چاہتے ہیں لیکن زندگی گزارنے کے اصول کبھی امریکہ سے، کبھی یہودیوں سے اور کبھی مشرکوں سے لے کر کسی نہ کسی طرح جائز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
قوم کی ترقی سے مراد ہمارے آج کے دانشوروں کے ذہن میں یہ ہے کہ لڑکیاں زیادہ سے زیادہ ڈگریاں حاصل کریں، نوکریاں کریں، مردوں کے شانہ بشانہ چلیں، پھر ان کے رشتے اچھے گھرانوں سے آئیں، لڑکیاں امریکہ یا یورپ جاکر ان کے معاشرے میں سیٹ ہوجائیں۔ لیکن ہمارے نزدیک قوم کی ترقی صرف یہ ہے کہ جس قوم سے آپ کا تعلق ہے، آپ اس قوم کے لیڈر کو اپنا مکمل لیڈر تسلیم کرلیں، اور ان کے دیئے ہوئے دستور  کو پوری دنیا کا دستوربنادیں۔ جو فوج میدانِ جنگ میں اپنے کمانڈر کی 100% تابعداری کرتی ہے، جنگ وہی جیتتی ہے۔ جو فوج کمانڈر کے فیصلوں کو اپنی دانشوری کے تابع کرتی ہے وہ فوج بری طرح ذلت اور شکست سے دوچار ہوتی ہے۔ آج مسلمان قوم کی ساری دنیا میں ذلت اور ہر قدم پر شکست کا سبب یہی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے لیڈر نے جب حکم دے دیا کہ بالغ ہونے کے بعد کفو مل جانے پر پہلے نکاح کرو۔ ایجوکیشن ضروری ہے، کیرئیر بھی ضروری ہے اور پروفیشنلزم بھی ضروری ہے۔ لیکن اسلام نے اس کی Priority  طئے کردی ہے کہ پہلے نکاح بعد میں سب کچھ۔ لیکن ہمارے دو کوڑی کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ لڑکیاں پہلے گریجویشن کریں، پھر پوسٹ گریجویشن، پھر کوئی میچنگ کا لڑکا ملنے تک نوکری کریں  اور تجربہ حاصل کریں۔ اگر کوئی ان سے اختلاف کرے تو اس کو بڑی حقارت سے مولوی یا ملّا سے تعبیر کریں گے۔ یہ نادان یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ یہ کس کی مخالفت کررہے ہیں۔ یہ مولویوں کی نہیں بلکہ اس قوم کے سردار محمد الرسول اللہ ﷺ کی راست مخالفت کررہے ہیں۔ کسی بھی رشتہ لگانے والے آفس میں جایئے، دیکھ لیجئے کہ شادی کی منتظر لڑکیوں کی اکثریت تیس سال کے آس پاس ہیں۔ اور ان میں زیادہ تو وہی لڑکیاں ہیں جن کے ذہنوں میں اعلیٰ تعلیم کا جنون بھردیا گیاتھا۔ 
تیسرا سوال یہ ہے کہ ایجوکیشن، ایجوکیشن کی رٹ لگانے والوں کے پاس ایجوکیشن کا مقصد کیا ہے، اس کی صحیح تعریف کیا ہے؟تھیوریٹکلی اس پر تو ہر دانشور ایک طویل تقریر کرسکتا ہے، لیکن پراکٹیکلی دیکھ لیجئے، ایجوکیشن دلاتے ہوئے ماں باپ کے ذہن میں جو مقصد ان کی چھٹی حِس میں چھپا ہوتا ہے وہ  یہ ہے کہ لڑکی کو مرد پر منحصر نہ ہونا پڑے، غلامی نہ کرنی پڑے، اگر شوہر مرجائے، بھاگ جائے، دوسری شادی کرلے یا چھوڑ دے تو لڑکی کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ جب آغاز ہی شک، سرکشی اور بغاوت کی بنیاد پر ہو تو انجام بھی ویساہی  ہوتا ہے۔ پہلی اینٹ اگر ٹیڑھی رکھ دی جائے تو دیوار چاہے آسمان تک اٹھادی جائے، وہ دیوار ٹیڑھی ہی جائیگی۔ ایک کامیاب شادی شدہ زندگی کا راز یہ ہے کہ بیوی پہلے لونڈی بن جائے پھر شوہر غلام بن جاتا ہے۔ یہ ایک Reciprocal عمل ہے۔ لیکن لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم انہیں پہلے جھکنے نہیں دیتی۔  اعلیٰ تعلیم کے بعد اپنی Ego کو دفن کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ 
میاں بیوی کے کامیاب رشتے کی بنیادیں چار ستونوں پر کھڑی ہیں۔ پہلا رشتہ یہ ہے کہ تعلق میاں بیوی کا ہو یعنی ایک دوسرے کے مکمل حقوق اداکررہے ہوں۔ دوسرا دوستانہ رشتہ ہے۔ یعنی وہ  ایک دوسرے کے ساتھ مکمل دوست کی طرح رہتے ہوں۔ تیسرا رشتہ یہ ہے کہ وہ ایک مکمل محبوب اور محبوبہ کی طرح رہتے ہوں۔ پہلے دو تعلقات تو بہرحال دیکھنے میں آتے ہیں لیکن تیسرا رشتہ یعنی محبوب اور محبوبہ کا رشتہ جو پور ی زندگی کی جان ہے، یہ اس وقت ممکن ہے جب لڑکی کی عمر بیس بائیس  یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہے۔ جب جذبات کلی کی طرح علی الصباح کھلتے ہیں اور مہک آتی ہے۔ دھوپ نکل جانے کے بعدپھول کھلتا تو ہ ہے لیکن بڑھتی ہوئی دھوپ کی گرمی اس کی خوشبو کا ختم کردیتی ہے۔ جب لڑکیاں جوانی کی اصل عمر سے نکل جائیں، تو پھر انہیں خوشی کے رشتے نہیں آتے، مجبوریوں کے رشتے آتے ہیں۔ کبھی طلاق شدہ مردوں کے کبھی کوئی نہ کوئی خامی والے مردوں کے۔ اور جو فِٹ مردوں کے رشتے آتے ہیں ان کا Rate بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مہذّب گھرانوں کی لڑکیاں کسی نہ کسی طرح سمجھوتہ کرلیتی ہیں، لیکن جن دماغوں میں فیمنزم اور لبرٹی آف وومن کا زہر اتارا جاچکا ہے وہ اپنے سے بہتر تعلیم یافتہ  اور کمائی والے کو دیکھتی ہیں جو ان کے ساتھ کام کرتا ہے چاہے وہ کوئی سید یا خان ہو، چاہے شرما یا ریڈی ہو چاہے سنگھ یا چٹرجی ہو۔ اس کو Cultural Assimiliation کہتے ہیں۔ اس میں غالب کلچر، کمزور کلچر کو اپنے اندر ضم کرلیتا ہے۔ مغلوں کے طاقتور کلچر میں راجبوت شہزادیاں ضم ہوجاتی تھیں۔ انگریزوں کے زمانے میں نوابوں کے کلچرکو  انگریز عورتیں اپنالیتیں اورنوابوں رئیسوں سے شادیاں کرلیتی تھیں۔ اب ہندوستان میں مسلمان لڑکیاں جس تیزی کے ساتھ اس انجذاب میں مبتلا ہیں، یہ سلسلہ آئندہ پانچ دس سال میں خطرے کے نشان سے اس قدر اوپر اٹھ چکا ہوگا کہ آج جو لوگ غیرت مندی سے سوچ کر رنجیدہ ہیں، رفتہ رفتہ یہ بھی پتھر ضمیر کے ہوجائیں گے۔ 
اب بھی وقت ہے۔ جو کچھ حالات آج ہیں، فاشسٹوں کی ایک مکمل منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اسلامی پرسنل لا اور اسلامی تاریخ اور تہذیب کے سامنے ان کے دیوی دیوتاؤں کے بچکانہ قصے ٹِک نہیں سکتے،اس لئے وہ  اپنی قوم کے تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کو اسلام سے بدظن رکھنے اسلام کے خلاف مستقل پروپیگنڈے اور تشدّد پر اتر آئے ہیں۔ اگر قومِ رسولِ ہاشمی آج بھی اپنے قائد کے سیاسی، اخلاقی، معاشرتی اور اکنامک اصولوں پر اڑ جائے تو پوری غیرقوم اسلام میں جذب ہوسکتی ہے، کوئی اس سے روک نہیں سکتا۔ لیکن ہم ایک قدرتی تنزّل کا شکار ہیں۔ پہاڑ سے تیزی سے نیچے کی طرف آتے ہوئے وزنی پتھر کی طرح ہم لوگ نیچے جارہے ہیں، یہ کیسے رکے گا اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہم میلادالبنی کے  شاندار جلوس نکال سکتے ہیں، ہم فرانس کے صدر کے پوسٹر پیروں میں روند سکتے ہیں، ہم پرسنل لا میں دوسروں کی دخل اندازی روکنے گولیاں کھانے تیار ہیں لیکن نکاح کا حکم خود اپنے خاندان پر نافذ کرنے تیار نہیں۔ یہ حکم نافذ ہوجائے تو نہ صرف لاکھوں مسلمان ہر سال غربت و افلاس سے باہر نکل سکتے ہیں بلکہ لاکھوں غیرقوم کی لڑکیوں کا اسلام میں داخلہ ممکن ہے، لیکن خود قومِ رسولِ ہاشمی آج دوسروں کو اس قوم  میں داخل ہونے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 
لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے نام پر جو کورسس ان سے کروائے جاتے ہیں، ان کا بھی کوئی مقصد نہیں ہوتا سوائے اس کے بس اچھا رشتہ آئے، بچی امریکہ یا دوبئی چلی جائے توکوئی سی بھی کلرک کی نوکری مل جائے۔کیا یہ حماقت نہیں ہے کہ لڑکیوں کو وہ کورس کروانا جو صرف مردوں کو سوٹ کرتے ہیں؟  کوئی لڑکی سیول انجینئرنگ، تو کوئی آرکٹکٹچر، کوئی  اگریکلچر  تو کوئی وِٹرنری کررہی ہے۔  ایسے کورسس میں ڈگری دلا کر ماں باپ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں؟اگر کسی آفس یا فیکٹری میں سو میں سے پچاس لڑکیاں مسلمان بھی ہوں تو اس سے مسلمانوں یا اسلام کا نام کہاں روشن ہوا؟ اس سے قوم کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ ایک گھر کی آمدنی ڈبل ہوگئی۔ میاں بیوی جب دونوں کمانے لگے تو عیش ڈبل ہوگیا۔ پہلے ایک کار تھی، اب دو ہوگئے، پہلے ایک فلیٹ تھا اب دو فلیٹ ہوگئے۔ پہلے بچے دال روٹی بھی خوشی سے کھالیتے تھے، اب ماکڈونالڈ، کے ایف سی آرڈر کرنے لگے ہیں۔ بچے جو امریکہ چلے گئے، کیا ان سے قوم کو کوئی فائدہ ہوا؟ کبھی یہ سو ڈالر بھی جیب سے نکالتے ہیں تو قوم پر بہت بڑا احسان کرتے ہیں۔۔یہ زیادہ تر مڈل کلاس کے لوگ ہوتے ہیں، مشورے، اعتراضات اور بکواس زیادہ کرتے ہیں، قوم کے لئے ان کے پاس سوائے تبصروں کے کچھ اور نہیں ہوتا۔ 
اسلام عورت کی نوکری کو بغیر کسی شرعی عذر کے کیوں پسند نہیں کرتا، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے مرد کو باہر کی دنیا کا اور عورت کو خاندان کا حاکم بنایا ہے۔ عورت پر اپنے اور اپنے اطراف کے بچوں اور عورتوں کی تربیت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیروزگاری کتنی عام ہے سب کو پتہ ہے۔ ایک مرد کو اگر نوکری ملتی ہے تو اس کی وجہ سے دس لوگ پلتے ہیں۔ لیکن اگر وہی نوکری عورت لے لے تو ایک گھر کی آمدنی کا گِراف اوپر اٹھتا چلاجاتا ہے، اور ایک مرد کے خاندان کا گراف گِرتا چلاجاتاہے۔ اس طرح ایک عورت کی نوکری کتنے افراد کی روٹی چھین لیتی ہے خود اس کو خبر نہیں۔ مرد مجبوری میں کئی کرائم کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کیا ایک گھر کی ترقی سے قوم کی ترقی ممکن ہے؟
اگر شوہر بیمار ہو، مرجائے یا کوئی اور مجبوری ہو تو عورت نوکری کرسکتی ہے۔ لیکن یہ مشکل سے دو فیصد عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے 98% لڑکیوں کو یہ ذہن نشین کروادیا جاتا ہے کہ ان کا شوہر مرنے ہی والا ہے، یا عورت کو کمائی پر مجبور کردینے والا ہے۔
قوم کی ترقی لڑکیوں کی نوکریوں کی غلامی میں نہیں ہے بلکہ ہماری قوم، ہمارے کلچر اور ہمارے پرسنل کو پھیلانے میں ہے۔ دراصل ہمارے نام نہاد دانشور امریکہ اور یورپ کی لڑکیوں کو دیکھ کر سخت احساسِ کمتری میں مبتلا ہیں۔ انہیں فر فر انگلش بولنے والیوں میں، مردوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے والیوں میں، مردوں کی محتاج نہ رہنے میں ترقی ہی ترقی نظر آتی ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں آخر ہماری لڑکیاں یہ ترقی کیوں نہیں کرتیں۔یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے آم کے پیڑ پر جام کیوں نہیں اُگتے؟ ان بے چارے دانشوروں کو یہی پتہ نہیں کہ ہر ترقی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ مغرب کی عورت نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے تب جاکر اسے یہ آزادی ملی ہے۔ کیا ہماری تہذیب یہ قیمت ادا کرسکتی ہے؟ ہماری تہذیب اور ان کی تہذیب میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سب سے پہلا فرق یہ ہے کہ سیکس انسان کی بھوک اور پیاس کی طرح ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ اسلام نے اس کو ایک انتہائی قابلِ احترام طریقے سے پورا کرنے کا پورا طریقہ دیا جس میں عورت کی مکمل حفاظت ہے۔ لیکن مغرب نے اس ضرورت کو ویسا ہی پورا کرلینے کی آزادی دے دے جیسے بھوک اور پیاس کو وقتی طور پر پورا کرلینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ لوگ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک خاندان کو پالنا، بچوں کو پیدا کرنا اور ساری زندگی ایک کھونٹے سے بندھے رہنے کے قائل نہیں۔ عورت بے چاری کرتی بھی کیا، وہ بھی اس سسٹم کا شکار ہوگئی۔ پہلے پہل اسے بھی اس میں لطف نظرآیا، اسے لگا کہ وہ صحیح آزادی حاصل کرچکی ہے، لیکن چند سالوں میں یہ محسوس ہوگیا کہ اب وہ سوائے مردوں کی ہوس پورا کرنے والے کھلونے سے زیادہ کچھ نہیں۔ ذرا زیادہ عمر ہوجائے تو پھر اس کی طرف کوئی پلٹ کر نہیں دیکھتا، باقی ساری زندگی وہ خود کمانے اور خود کھانے پر مجبور ہوگئی۔ دوسرا فرق ہے کہ مغرب میں پہلے تو کوئی شادی نہیں کرتا، اگر کرتے بھی ہیں تو طلاق کی شرح% 50-70 ہے۔ مغرب میں اب عورت اپنی آزادی کو باقی رکھنے کے لئے اپنے باس کو خوش رکھنے، غیرمردو ں سے بے تکلفی، ترقی کے نام پر کچھ برہنگی، کچھ جسم کی نمائش، پر مجبور ہے۔ کیا ہمارے دانشور یہی ترقی چاہتے ہیں؟  اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہزاروں عورتیں جو نوکریاں کررہی ہیں وہ ساری زنا ہی کررہی ہیں۔ لیکن اتنا تو کرنے پر مجبور ہیں کہ اسلامی لباس کے بغیر،  بال کھولے، کبھی پیٹ اور کبھی پیٹھ دکھانے والی ساڑیاں یا اسکرٹ پہن کر نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ 
اور پھر جتنی ہزاروں لڑکیوں کو ہم اعلیٰ تعلیم کی بھٹّی میں جھونک رہے ہیں، کیا اتنی نوکریاں دستیاب ہیں؟ یہاں فاشسٹوں نے مسلمانوں کے لئے ویسے ہی نوکریاں ختم کردی ہیں۔ہم ہزاروں لڑکیوں کو کن نوکریوں کے لئے تیار کرنا چاہتے ہیں؟ اب جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو بھی آفر دیا جائے وہ بھیک سمجھ کر قبول کرلینے تیار ہیں، ان کی قابلیت، ان کی وفاداری اور محنت کا مکمل استحصال ہورہا ہے، ہم لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے ذہن بناکر نہ صرف انہیں نوکریوں کی بھیک پر مجبور کررہے ہیں، بلکہ حریص مردوں کو گھر بیٹھے بیوی کا مال کھانے، اس سے نوکری کروانے، پھر بچوں کی، ساس سسر کی اور گھر، پکوان، صفائی وغیرہ جیسی خدمات مفت حاصل کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔معصوم لڑکیاں ایک طرف صحیح عمر میں شادی کے لطف سے محروم ہیں تو دوسری طرف باقی ساری زندگی کے آرام سے محروم ہیں۔ اس سے بہتر ہوتا وہ شادی کی صحیح عمر میں شادی کرکے زندگی کا لطف تو اٹھاتیں۔  
اب آیئے،جہیز کے زاویہ سے بھی بات کرتے ہیں۔ کون نہیں جانتاکہ آج کی شادیاں، جہیز، بارات اور منگنی وغیرہ لڑکی اور اس کے ماں باپ پر ایک ظلم ہے۔ ہائر ایجوکیشن کا فائدہ یہ تو ہونا چاہئے تھا کہ ایجوکیٹیڈ لڑکیاں ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھتیں، لیکن آج کی ایجوکیشن کا مقصدناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ ڈگریاں حاصل کرکے نوکریوں کے قابل بنانا ہے، پھر ایسی ایجوکیش کا فائدہ ہی کیا جس میں لڑکی کو جتنا پڑھایا جائے اس کے ماں باپ پر وہ اتنا زیادہ بوجھ بنتی جائے؟ اس تعلیم سے قوم کو کیا فائدہ ہوا؟ اس سے قوم کی ترقی کہاں ہوئی؟ 
حل کیا ہے؟ صحیح وقت پر شادی اللہ کی ایک نعمت ہے۔ زندگی میں صحیح وقت پر صحیح پیار مل جائے، جذبات سرد ہونے سے پہلے زندگی شروع ہوجائے تو ایسا ہی ہے جیسے بھوک میں کسی انسان کو سوکھی روٹی اور دال بھی مزا دیتی ہے۔ لیکن اگر آدمی کا فالتو چیزوں سے پیٹ بھر جائے اور بعد میں اس کے سامنے بریانی بھی پیش کردی جائے تو وہ اس میں کئی خامیاں نکالتا ہے۔ اسی طرح اگر صحیح وقت پر شادی ہوجائے تو لڑکا یا لڑکی نہ خوبصورتی دیکھتے ہیں نہ پیسہ، ایک دوسرے کی بانہیں ان کے لئے بہت بڑا سہارا ہیں۔ اس کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد پہلے ان کی شادی کردی جائے تاکہ نہ ان کے ذہن جنسی جذبات  میں بہکیں، اور نہ کوئی دوسرا انہیں بہکانے کی کوشش کرے۔۔ شادی مکمل نبی ﷺ کے طریقے پر ہو، یعنی نکاح گھر پر یا مسجد میں ہو، مہمانوں کو چائے یا شربت پیش کیا جائے، نقد مہر ادا کیا جائے، ولیمہ نبی ﷺ اور علی ؓ کے ولیموں کی طرح ایک بکرے پر ہو، اور جو پیسہ بچ جائے، شادی کے بعد ان کی ایجوکیشن اور کیرئر پر خرچ کیا جائے۔ بچے فوری پیدا کرنا ضروری نہیں ہے۔ اسلام میں نہ بچے  پیدا کرنے سے روکا ہے اور نہ پلاننگ کرنے سے۔ دو چار سال بچے تاخیر سے پیدا ہوں تو کوئی قیامت نہیں آجائیگی۔ دونوں زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہوتے ہوئے تعلیم بھی مکمل کرینگے اور اپنے اپنے پروفیشن میں کمانے بھی لگیں گے۔ جو پیسہ دکھاوے کی دعوتوں، جہیز اورجوڑے کی رقم میں ضائع کرکے تیار دلہوں کو خریدتے ہیں، اور بعد میں طلاقوں اور جھگڑوں میں زندگی گزارتے ہیں، اس سے نجات مل جائیگی۔ معاشرہ ایک صحیح بنیادوں پر چل پڑے گا۔ ....

💦💦💦💦💦💦💦

Thursday, 31 December 2020

Understanding Binary Numbers

We are using the Decimal Numbers in which we have ten digits
0,1,2,3,4,5,6,7,8,9

We can make unlimited numbers by using only these ten digits

here,
 We have used 1,8,5 and 3  digits only to make one thousand eight hundred fifty three. It becomes possible by the place value of the digits. The place value increases by the multiple of 10.

In Binary numbers we have only two digits that is 0 and 1.

So, the place value in binary numbers increases by the multiple of 2

Here the number 11001 in binary is equivalent to the Decimal number 25.

Binary Numbers

Saturday, 26 December 2020

اردو لکھنے میں کی جانے والی 12 غلطیاں۔

#پہلی
اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہئیں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد ایک وقفہ (اسپیس) چھوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ خود بخود الگ الگ ہوجاتے ہیں۔
دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک ’کاتبوں‘ کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم ’آجشبکو‘ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے اب الفاظ الگ الگ کر کے لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی ’شکل‘ بھی بگڑ جاتی ہے۔
مندرجہ ذیل میں ان الفاظ کی 12 اقسام یا ’طرز‘ الگ الگ کر کے بتائی جا رہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں الگ الگ کرکے لکھنا ضروری ہے۔
*جب کہ، چوں کہ، چناں چہ، کیوں کہ، حالاں کہ
*کے لیے، اس لیے، اس کو، آپ کو، آپ کی، ان کو، ان کی
*طاقت وَر، دانش وَر، نام وَر
*کام یاب، کم یاب، فتح یاب، صحت یاب
*گم نام، گم شدہ
*خوش گوار، خوش شکل
*الم ناک، وحشت ناک، خوف ناک، *دہشت ناک، کرب ناک
*صحت مند، عقل مند، دانش مند،
*شان دار، جان دار، کاٹ دار،
*اَن مول، اَن جانا، اَن مٹ، اَن دیکھا، اَن چُھوا
*بے وقوف، بے جان، بے کار، بے خیال، بے فکر، بے ہودہ، بے دل، بے شرم، بے نام،
*امرت سر، کتاب چہ
*خوب صورت، خوب سیرت وغیرہ
#دوسری
اردو لکھتے ہوئے ہمیں یک سان آواز مگر مختلف املے کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے، جیسے کہ ’کے اور کہ، سہی اور صحیح، صدا اور سدا، نذر اور نظر، ہامی اور حامی، سورت اور صورت، معرکہ اور مارکہ، قاری اور کاری، جانا اور جاناں وغیرہ
#تیسری
اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے علاوہ عربی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے، جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں، ان کو لکھتے ہوئے ان کے املے کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں بعض اوقات الف خاموش (سائلنٹ) ہوتا ہے جیسے بالکل، بالخصوص، بالفرض، بالغرض وغیرہ۔ جب کہ کہیں چھوٹی ’ی‘ یا کسی اور لفظ پر کھڑی زبر ہوتی ہے، جو الف کی آواز دیتی ہے، جیسے وزیراعلیٰ، رحمٰن اور اسحٰق وغیرہ، اسی طرح بہت سی عربی تراکیب میں ’ل‘ ساکت ہوتا ہے جیسے ’السلام علیکم‘ اسے ’ل‘ کے بغیر لکھنا فاش غلطی ہے۔
#چوتھی
زیر والے مرکب الفاظ جیسے جانِِ من (نہ کہ جانے من) جانِ جاں (نہ کہ جانے جاں) شانِ کراچی (نہ کہ شانے کراچی) فخرِ پنجاب (نہ کہ فخرے پنجاب) اہلِ محلہ ( نہ کہ اہلے محلہ) وغیرہ کی غلطی بھی درست کرنا ضروری ہے۔
#پانچویں
اپنے جملوں میں مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ’کر دینا ہے‘ نہیں بلکہ ’کردیں گے‘ لکھنا چاہیے، جیسے اب تم آگئے ہو تو تم بول بول کے میرے سر میں درد کر دو گے (نہ کہ کردینا ہے) اب ٹیچر آگئے ہیں تو تم کتاب کھول کر پڑھنے کی اداکاری شروع کر دو گے (نہ کہ کردینی ہے) لکھنا چاہیے۔
#چھٹی
اردو کے ’مہمل الفاظ‘ میں’ش‘ کا نہیں بلکہ ’و‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کتاب وتاب، کلاس ولاس، اسکول وسکول، پڑھائی وڑھائی، عادت وادت وغیرہ۔ انہیں کتاب شتاب، کلاس شلاس لکھنا غلط ہے۔
#ساتویں
اردو میں دو زبر یعنی‘ تنوین‘ والے لفظوں کو درست لکھنا چاہیے، اس میں دو زبر مل کر ’ن‘ کی آواز دیتے ہیں جیسے تقریباً، اندازاً، عادتاً، اصلاً، نسلاً، ظاہراً، مزاجاً وغیرہ۔
#آٹھویں
کسی بھی لفظ کے املے میں ’ن‘ اور ’ب‘ جہاں ملتے ہیں وہاں ’م‘ کی آواز آتی ہے، اس کا بالخصوص خیال رکھنا چاہے ’ن‘ اور ’ب‘ ہی لکھا جائے ’م‘ نہ لکھا جائے، جیسے انبار، منبر، انبوہ، انبالہ، استنبول، انبیا، سنبھل، سنبھال، اچنبھا، عنبرین، سنبل وغیرہ
#نویں
اردو کے ان الفاظ کی درستی ملحوظ رکھنا چاہیے جو الف کی آواز دیتے ہیں، لیکن کسی کے آخر میں ’ہ‘ ہے اور کسی کے آخر میں الف۔ انہیں لکھتے ہوئے غلطی کی جائے، تو اس کے معانی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے گلہ اور گلا، پیسہ اور پیسا، زن اور ظن، دانہ اور دانا وغیرہ وغیرہ۔
#دسویں
الف کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ چاہے وہ گول ’ہ‘ پر ختم ہوں یا ’الف‘ پر، انہیں جملے میں استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات جملے کی ضرورت کے تحت ’جمع‘ کے طور پر لکھا جاتا ہے، حالاں کہ وہ واحد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں جملے کا پچھلا حصہ یا اس سے پہلے والا جملہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ دراصل ’ایک‘ ہی چیز کا ذکر ہے۔ جیسے:
میرے پاس ایک ’بکرا‘ تھا، اس ’بکرے‘ کا رنگ کالا تھا۔
میرے پاس ایک ’چوزا‘ تھا، ’چوزے‘ کے پر بہت خوب صورت تھے۔
ہمارا ’نظریہ‘ امن ہے اور اس ’نظریے‘ کے تحت ہم محبتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں۔
جلسے میں ایک پرجوش ’نعرہ‘ لگایا گیا اور اس ’نعرے‘ کے بعد لوگوں میں جوش وخروش پیدا ہوگیا۔ ’ کوا ‘چونچ میں روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا، جوں ہی ’کوّے‘ سے روٹی کا ٹکڑا چُھوٹا، توں ہی وہ کائیں کائیں کرنے لگا۔
ایک ’کوا‘ پیاسا تھا، اس ’کوے‘ نے پانی کی تلاش میں اڑنا شروع کیا۔
#گیارہویں
انگریزی الفاظ لکھتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے کہ جو الفاظ یا اصطلاحات (ٹرمز) رائج ہو چکی ہیں، یا جن کا کوئی ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ ہے تو وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے انہیں ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ انگریزی میں ہی لکھ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن انگریزی الفاظ کو اردو میں لکھا جائے گا، ان کی جمع اردو کی طرز پر بنائی جائے گی، نہ کہ انگریزی کی طرز پر، جیسے اسکول کی اسکولوں، کلاس کی کلاسوں، یونیورسٹی کی یونیورسٹیوں، اسٹاپ کی اسٹاپوں وغیرہ۔ تیسری بات یہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ جو ’ایس‘ سے شروع ہوتے ہیں، لیکن ان کے شروع میں ’الف‘ کی آواز ہوتی ہے، انہیں اردو میں لازمی طورپر الف کے ساتھ لکھا جائے گا۔ جیسے اسکول، اسٹاپ، اسٹاف، اسٹیشن، اسمال، اسٹائل، اسٹوری، اسٹار وغیرہ۔ لیکن ایسے الفاظ جو شروع تو ’ایس‘ سے ہوتے ہیں لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز نہیں ہے انہیں الف سے نہیں لکھا جائے گا، جیسے سچیویشن، سورس، سینڈیکیٹ، سیمسٹر، سائن اوپسس وغیرہ۔
#بارہویں
ہندوستانی فلموں نے اردو پر جو بھدا اثر ڈالا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں لفظ ’اپنا‘ کی جگہ میرا بولا جاتا ہے۔ ہمیں اردو لکھتے ہوئے اسے ٹھیک کرنا چاہیے، اس لیے ’میں میرے نہیں‘ بلکہ ’میں اپنے لکھا جائے‘ جیسا کہ میں میرے گھر میں میرے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہوگا، درست جملہ یوں ہوگا کہ میں اپنے گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔

Friday, 25 December 2020

سردی کی وجہ سے پھٹی ہوئی ایڑیوں کا علاج

ٹھنڈ اورسرد موسم سے سب سے پہلے انسانی جسم متاثرہوتا ہے اور ہاتھوں، پیروں کی جلد کے علاوہ ایڑیاں بھی پھٹ جاتی ہیں جن میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ بعض اوقات پھٹی ایڑیوں سے خون بھی رستا ہے۔ 

ایڑیوں کو پھٹنے سے بچانے کی احتیاط

 ایسے جوتے پہنیں جو بند ہوں، جن میں ایڑیوں پر ہوا زیادہ نہ لگے

 کارپیٹ اور فرش پر چپل پہن کر چلیں، تاکہ گرد پیروں پہ چپک نہ سکے

 پانی میں زیادہ دیر ننگے پائوں نہ رہیں، اس سے جلد پھٹنے لگتی ہے اور ایڑیاں زخمی ہوجاتی ہیں

کوشش کریں جرابیں زیادہ وقت پہن کر رکھیں تاکہ مٹی اور خشک ہواوں سے ایڑیاں محفوظ رہیں۔
 ننگے پاؤں چلنے سے گریز کریں:
اپنے پیروں کو صاف اور گندگی سے پاک رکھیں۔ باقاعدگی سے مساج کریں۔ اپنی ایڑیوں کے لیے ناریل کا تیل استعمال کریں۔اچھے نتائج کیلیے کریم لگانے کے بعد روئی کے موزے پہنیں
 گلاب واٹر اور گلیسرین:
گلیسرین اور گلاب کا پانی پھٹی ہوئی ایڑیوں کیلیے بہت کار آمد ہے۔ برابر مقدار میں گلاب پانی لیں۔ اور گلیسرین اس میں اچھی طرح مکس کریں۔یہ پھٹی ہوئی ایڑیوں کا بہترین علاج ہے۔گلیسرین ایڑیوں کو نرم کرتی ہےاور گلاب کے پانی میں وٹامن اے موجود ہے۔ اس مرکب کو رات کو سونے سے پہلے لگائیں۔
 کیلا
کیلا اپنی نمی بخش خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔ ایک کیلے کا پیسٹ بنا کر پھٹی ایڑیوں پر لگائیں۔اسے 10 سے 15 منٹ تک رہنے دیں۔ پھر پاؤں کو 5 منٹ کیلیے ٹھنڈے پانی میں بھگو دیں۔نرم اور ہموار ایڑیوں کی بحالی کیلیے روزانہ کچھ ہفتوں تک یہ عمل کریں۔
 پیٹرولیم جیلی:
خشک‘کھردری جلد پر پیٹرولیم جیلی کا استعمال کریں۔ پٹرولیم جیلی میں رس لیموں بھی شامل کر سکتے ہیں۔اپنے پیروں کو جرابوں سے ڈھانپیں تا کہ پیٹرولیم جیلی جلد میں جذب ہو سکے۔ یہ آپ کی جلد کو ہموار اور نرم کرے گا۔
 زیتون کا تیل:
زیتون کا تیل پاؤں کےلیے بہت اچھا ہے۔اسے روئی کی مدد سے پیروں پر لگائیں۔ زیتون کے تیل میں لیموں کا رس اور تھوڑی مقدار میں پانی ملا دیں۔بوتل میں یہ سب ڈال دیں۔ایڑیوں کے لیے یہ بہت مفید ہے۔
 سمندر کا نمک:
سمندری نمک پاؤں کے لیے اچھا ہے۔ ٹب میں پانی لیں اور سمندری نمک ڈالیں۔اس میں پاؤں بھگو دیں۔اپنے پاؤں کو اچھی طرح رگڑیں۔ کریم لگائیں بہتر نتائج کیلیے موزے پہنیں۔
 پیروں کو ہائیڈ ریٹڈ رکھیں:
بہت پانی پئیں گرم شاور سے پرہیز کریں کیونکہ وہ جلد کو پانی کی کمی اور خشک بنا سکتے ہیں۔ مائعات کا استعمال آپکو اندر سے بھی ہائیڈریٹ رکھے گا۔
 مردہ جلد کے سیل دور کریں:
اس مقصد کے لیے پاؤں کی صفائی کا خیال رکھیں کسی بھی تیل کے سادہ نمک میں کچھ قطرے ڈالیں۔پیروں پر لگا کر اسکرب کریں۔ یہ مردہ خلیوں کو ختم کر دے گا۔

پھٹی ایڑیوں کا آسان علاج
اس کے علاج کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ سےزیادہ پانی پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی پوری ہوسکے۔
 لیموں کا رس
 پھٹی ایڑیوں کے لئے لیموں سب سے زیادہ مفید چیز ہے۔تھوڑا سا گرم پانی لے کر اس میں لیموں کا رس ملا لیں اور اس محلول میں اپنے پاں کو 10منٹ تک ڈبوکر بیٹھ جائیں۔ لیموں کا رس اور ویزلین کو ملاکر لگانے سے بھی پھٹی ایڑھیاں ٹھیک ہوجائیں گی۔
 پیپل کے پتے
پیپل کے پتے پھٹی ایڑیوں میں بہت فائدے مند ہیں۔ پیپل کے نرم پتوں کا رس لے کر پھٹی ایڑیوں اور سردی سے متاثرہ ہاتھوں پرلگائیں یہ جلد سے سردی کا اثر ختم کرنے کے ساتھ ایڑیوں کو نرم ملائم بناتا ہے۔

ایڑیوں کے پھٹنے کا علاج
دو شلجم چھلکوں سمیت ٹکڑے کر کے کسی بڑی دیگچی میں پانی بھر کر شلجم ڈال کر پانی کو ابالیں۔ شلجم جلدی گل جائیں گے۔ ان کو کسی تسلے میں ڈال کر آدھا چھوٹا چمچ نمک ملا لیں ۔اور اتنا ہی سرسوں کا تیل پانی میں ملا کر پاؤں پانی میں ڈال کر بیٹھ جائیں 
جب پانی ٹھنڈا ہوجائے تو پاؤں صاف کر کے پٹرولیم جیلی لگائیں ۔تین سے چار دنوں میں پاؤں بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔

پھٹی ہوئی ایڑیوں کے لیے
100 ایم ایل سرسوں کا خالص تیل
100 ایم ایل سادہ پانی
پھٹکری باریک پسی ہوئی آدھا چمچ 
پھٹکری کو پانی میں مکس کرکے حل کریں 
پھر تیل مکس کرکے اچھی طرح حل کریں جب تینوں خوب مکس ہوں تو بوتل میں محفوظ رکھیں 
ترکیب استعمال 
پہلے متاثرہ جگہ کو صاف پانی سے دھوکر ہلکا خشک کریں پھر اس مکس تیل کو ہلکہ نیم گرم کرکے صبح و شام اچھی طرح مساج کریں اور جراب پہن لیں۔
چند یوم میں فائدہ ہوگا
ان شاءاللہ ۔

پھٹی ہوئی ایڑیوں کا آسان سا حل
ایڑیوں کو اچھی طرح رگڑ کر صاف کرلیں اور پھر ویزلین لگا کر جرابیں پہن لیں۔
چند دنوں میں بدنما ایڑیاں خوبصورت نرم و ملائم ہو جائیں گی۔

پھٹی ایڑیوں سے نجات
 کینو کے سوکھے ہوئے ایک پاؤ چھلکوں کو اچھی طرح گرائنڈ کرکے سفوف بنالیں،پھر تقریباً آدھا پائو زیتون یا ناریل کا تیل ملاکر پیسٹ بناکے کسی ڈبیا میں رکھ لیں۔ رات اور صُبح کو پائوں دھو کرخشک کریں اوریہ پیسٹ لگاکر موزے پہن لیں، تاکہ پاؤں مٹّی سے محفوظ رہیں۔ ہفتہ بھر استعمال سے ایڑیاں ٹھیک ہوجائیں گی۔

پھٹی ایڑھیوں کے لیے:
 آدھا پاؤ سرسوں کا تیل لے کر فرائی پین میں پکائیں، ساتھ ہی ایک موم بتی کے ٹکڑے کرکے اس میں ڈال دیں اور چمچ چلاتے رہیں۔ جب موم پگھل جائے تو ٹھنڈا ہونے پر ایک بوتل میں محفوظ کرلیں۔ یہ ایک طرح کی ویسلین بن جائے گی۔رات کو سوتے وقت ایڑھیوں پر لگائیں اور موزے پہن لیں۔ صبح اٹھ کر ایڑھیاں دھولیں ، ایڑھیاں چمکدار اور خوبصورت ہوجائیں گی۔

پھٹی ایڑیاں
 ہم اکثر اپنی پھٹی ایڑیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں تاہم پھٹکری اس حوالے سے بھی اپنا جادوئی کمال دکھاتی ہے- پھٹکری کو اس وقت تک ایک خالی پیالے میں گرم کریں جب تک کہ وہ پگھل کر فوم پھلا نہ بن جائے- اب اس کو ٹھنڈا کریں-اور پیس لیں اب اس میں ناریل کا تیل شامل کریں اور متاثرہ جگہوں پر لگائیں- پھٹی ایڑیاں چند دفعہ کے استعمال سے درست ہو جائیں گی,

پھٹی ایڑیوں کے لئے
شہد کے چھتے سے حاصل کیے ھوئے موم کو کسی برتن میں ڈال کر پگھلا لیں اور اس میں سرسوں کا تیل اتنی مقدار میں ڈالیں کہ نرم مرھم کی صورت اختیار کرلے ۔کسی برتن میں محفوظ کرلیں۔ رات کو سونے سے پہلے متاثرہ جگہ اچھی طرح لگا کر چند منٹ مساج کریں اور صبح کو صابن سے دھولیں ۔چاہے جتنی بھی زیادہ پھٹی ھوں گی تین سے چار دن میں صاف شفاف بچوں جیسی نرم ملائم ھو جائیں گی ۔
مستری مزدور جو سیمنٹ کا کام کرتے ہیں بعض اوقات سیمنٹ ان کے ھاتوں کو خراب اور زخمی کر دیتا ھے ان زخمی پاوں اور ھاتوں کے لیئے ایک رات کا استعمال ھی کافی ھے۔

پھٹی ایڑیوں کا مجرب علاج
شہد دو چمچ
مکھن 50 گرام
دونوں کو مکس کریں رات کو سوتے وقت لگائیں پاؤں میں شاپر چڑھائیں اور جراب پہن لیں صبح اٹھ کر نیم گرم پانی سے دھو لیں اس طرح 3 رات کریں پہلی رات سے تکلیف دور ھوجائے گی انشاءاللہ

پھٹی ایڑیوں کو نرم و ملائم کیجئے
پھٹی ایڑیاں اکثروبیشتر  خواتین کا مسئلہ ہوتی ہیں ، انکو صاف اور نرم و ملائم کرنے کا آزمودہ نسخہ پیش خدمت ہے ۔۔
اجزاء
▪ہلدی ایک چمچ
▪گلیسرین ایک چمچ
▪گلاب عرق آدھ چمچ
 طریقہ استعمال
》تمام اجزاء کو مکس کریں اور پھٹی ایڑیوں پر اس مکسچر کو لگائیں اگر دراڑ ہو تو اس سے بھر دیں۔ تقریباً بیس منٹ تک لگا رہنے دیں۔ پھر پانی سے دھولیں۔

نسخہ پھٹی ایڑیوں اور  شوگر والوں کے زخموں کے لیے۔
ناسور اور پرانے زخم تمام جلدی بیماریاں اور نا ٹھیک ہونے والے زخموں کے لیےمجرب علاج۔
دودھ کو لیموں نچوڑ کر پھاڑ لیں اور کپڑ چھان کرکے اس پانی کو زخموں اور متاثرہ جگہ پر لگائیں ۔ انشااللہ چند دنوں میں بلکل ٹھیک ہو جائے گا...

خون کی کمی دور کرنے کا سب سے آسان نسخہ

تھوڑی سی کشمش لیں اور اسے رات کو ایک کپ پانی میں بھگو دیں صبح کھاکر دودھ پی لیا کریں اور پھر گالوں کی لالی چیک کریں۔ کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور خشک کرکے بنائی جاتی ہے اور اس کی رنگت گولڈن ، سبزیا سیاہ ہو سکتی ہے۔ یہ مزیدار میوہ عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس کا روز استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔

قبض سے نجات۔۔۔۔۔۔۔
فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی شامل ہوتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ کا استعمال کرنے والے افراد کا نظام ہاضمہ دوگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔

خون کی کمی دور کرے۔۔۔۔۔
کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے ، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے ، کشمش کو آسانی سے دلیہ ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کویہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔

بخار سے تحفظ دے۔۔۔۔
کشمش میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس وائرل اور بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخارکے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔

معدے کی تیزابیت ختم کرے۔۔۔
کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشیم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں ، معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض ، جوڑوں کے امراض ، بالوں کے گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آنکھوں کی صحت بہتر کرے۔۔۔۔۔۔۔

کشمش میں موجود اجزائ: آنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری ، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹاکیروٹین ، وٹامن اے اور کیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدددیتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے۔۔۔۔۔۔۔
کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے ، کشمش کا استعمال وٹامنز ، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدددیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔

بے خوابی سے نجات دلائے ۔۔۔۔۔۔۔
میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدددیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر ۔۔۔۔۔۔۔
آئرن، پوٹاشیم ، بی وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدددیتے ہیں ، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہے اور بلڈپریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے۔ اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈپریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔

ہڈیوں کو مضبوط بنائے۔۔۔۔۔
میوے میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائد ہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدددیتا ہے۔ گردوں کی پتھری کا خطرہ کم کرے : پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے...

منہ کی ناخوشگوار مہک سے نجات پائیں


منہ کی بدبو اکثر الٹی سیدھی چیزیں کھانے اور منہ کی صفائی نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات لوگوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ہمارے اعتماد کو بھی پست کر دیتی ہے۔

وہ خواتین اور مرد حضرات جو اپنے منہ کی بو کی وجہ سے پریشان ہیں اب انہیں مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آج ہم آپ کو ایسے طریقے بتائیں گے جن سے منہ کی بدبو آپ کے قریب بھی نہ آسکے گی۔

منہ کی بدبو کو دور کرنے کے لئے چھوٹی الائچی منہ میں رکھ لیا کریں اس سے بدبو دور ہوجاتی ہے۔

عرقِ گلاب میں لیموں نچوڑ کر اس سے غرارے کرنے سے منہ کی بدبو دور ہوجاتی ہے۔

پھولوں کی پتیوں کو دانتوں پر مسلنے سے بھی منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے۔
سیب کھایا کریں !۔۔کیونکہ سیب قدرتی طور پر منہ کی صفائی کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔

دار چینی کی چائے منہ اور سانسوں کو مہکائے رکھتی ہے اسی لئے روزانہ ایک کپ دار چینی کی چائے پی لیا کریں۔

دس سے بارہ نیم کے پتوں کو ایک گلاس پانی میں ابال لیں پھر ٹھنڈا ہونے پراس سے غرارا کرلیں اس کے باقائدہ استعمال سے منہ کی بدبو کا نشان بھی باقی نہیں رہتا۔

نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غرارے کرنے سے بھی منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے کیونکہ نمک میں پائے جانے والے عناصر منہ سے مردہ خلیوں کو نکال دیتے ہیں ۔

رات کو منہ صاف کرکے ایک ادرک کا ٹکڑا منہ میں چبائیں اور اس کے رس کو پورے منہ میں گردش دیں اس کے بعد پانی نہ پئیں صبح جب اٹھیں گے تو بو کانام ونشان بھی نہیں ہوگا۔

ان تمام عوامل میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرکے منہ کی بدبو سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اوربدبو جب ختم ہوجائے گی تو یہ یقیناََ آپ کے اعتماد میں بھی سو فیصد اضافے کا باعث بنے گی....

Sunday, 20 December 2020

نشٹھا MH_M1 کے سوالات و جوابات

 MH_M1


1) قومی نصاب کے خاکہ کے لئے مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیانات درست ہیں:


مذکورہ بالا سبھی



2) رام ایک طالب علم ہے جس میں بصارت کی خرابی ہے۔ مندرجہ ذیل میں سے کون اس کے لئے واقفیت اور نقل و حرکت کی تربیت کے لئے زیادہ مفید ہوگا؟


اسکول کی عمارت کا نقشہ



3) یہ سب UDL پرنسپل ایکسپیٹی ہیں


طرز عمل کے انتظام کے کثیر وسائل


4) ایک ہی معذوری کے ساتھ دو بچے


کلاس روم میں اساتذہ کے ذریعہ مختلف مداخلت کی ضرورت ہوسکتی ہے

درست جواب یہی ہے لیکن ایپ میں کسی خاص اقدام کی ضرورت نہیں ہے پر درست آرہا ہے



5) افراد کے ساتھ معذوریوں کا ایکٹ ، 2016 (آر پی ڈبلیو ڈی ایکٹ 2016) جامع تعلیم کو ایسے نظام تعلیم کے طور پر بیان کرتا ہے جہاں طالب علم بغیر کسی اختیار کے ہے:


ایک ساتھ سیکھیں اور درس و تدریسی نظام کو مناسب حد تک بہتر بنایا گیا ہے



6) NEP 2020 میں اسکول کی تعلیم کے موجودہ ڈیزائن کو 10 + 2 سے تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔


5 + 3 + 3 + 4



7) مندرجہ ذیل میں سے کون سا بیانات کورس کے لئے درست نہیں ہے


یہ ہندوستان میں مختلف سطحوں پر تعلیم کے ل vision وژن فراہم کرتا ہے



8) ہندوستان میں تعلیم سے متعلق پہلی اور دوسری قومی پالیسیاں سال میں تشکیل دی گئیں:


1968 اور 1986



9) جامع تعلیم کو فروغ دینے کے لئے مندرجہ ذیل میں سے کون سا اہم نہیں ہے:


اساتذہ کی اقتصادی  و معاشی حیثیت



10) بچوں کا مفت اور لازمی تعلیم کا حق (آر ٹی ای) ایکٹ نافذ کیا گیا تھا اور یہ سال میں نافذ ہوا تھا:


سال 2009 میں نافذ کیا گیا اور اپریل 2010 سے نافذ ہوا

Activities

آف لائن ورک شیٹ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔

Class 2 Activity 1

Saturday, 12 December 2020

Nishtha M6 Question Answers

MH_M6

प्रश्न-1  कला समेकित शिक्षा के माध्यम से शिक्षक क्या विकसित कर सकेगे ?

  1.  क अनूलाभव के लिए गतिविधियां
  2.  काला प्रतियोगिता की भावना
  3. अकादमिक परिणाम के लिए परीक्षा के संसाधन
  4. कला आधारित ऐतिहासिक परियोजनाएं

उत्तर –  क अनूलाभव के लिए गतिविधियां

प्रश्न-2 निम्नलिखित में से कौन सी कला प्रदर्शन कला नहीं है ;

  1.  स्वाभिनय
  2.  चित्रकला
  3.  संगीत
  4.  नृत्य

उत्तर –  चित्रकला

प्रश्न-3  कला समेकित गतिविधियां इनमें से किस सिद्धांत पर आधारित है?

  1.  अनुभव आधारित अधिनियम
  2. रट कर याद करना
  3. पाठ्य पुस्तक से नकल करना
  4. सही उत्तर लिखना

 उत्तर – अनुभव आधारित अधिनियम

प्रश्न– 4 समेकित का अर्थ है ?

  1.  विज्ञान के अलावा अन्य विषयो के साथ कला का संयोजन
  2. विभिन्न पाठ्यक्रम क्षेत्रों के शिक्षण के साथ कला का संयोजन
  3. कम से कम एक कला रूप के विषय का गहन ज्ञान
  4. भाषा और सामाजिक आध्यन के साथ कला का संयोजन

उतर – विभिन्न पाठ्यक्रम क्षेत्रों के शिक्षण के साथ कला का संयोजन

प्रश्न -5 कला समेकित शिक्षा की गतिविधियों को वीडियो देखने के बाद, कौन सी ध्वनियां उंगलियों से बनाई जा सकती हैं?

  1. हवा की ध्वनि
  2. आग की ध्वनि
  3. पानी की ध्वनि
  4. बारिश की ध्वनि

उत्तर – बारिश की ध्वनि

प्रश्न – 6  विशेष जरूरतों वाले बच्चों (CSWN)  को निम्न में से किसके माध्यम से आनंददायी अधिगम में लगाया जा सकता है?

  1. पाठ को याद करवा कर
  2. लिखने का अभ्यास करवा कर
  3. कला समेकित शिक्षा
  4. ऊंची आवाज में पढ़ कर

उत्तर – कला समेकित शिक्षा

प्रश्न-7 कला समेकित शिक्षा में, ‘कला’ को किस संदर्भ में लिया गया है?

  1. शिक्षण- शास्त्र का एक टूल
  2. लोक कला
  3. परंपरागत कला
  4. परीक्षा की एक कला

उत्तर– शिक्षण- शास्त्र का एक टूल

प्रश्न– 8 कला रूपों के एकीकरण के माध्यम से, शिक्षकों द्वारा मूल्यांकन नहीं किया जा सकता है;

  1. संभव नहीं है
  2. केवल एक अवधारणा है
  3. गलत
  4. सही

उत्तर–  गलत

प्रश्न– 9  गणित की विभिन्न अवधारणाऍ, विज्ञान, सामाजिक अध्ययन और भाषा को समेकित अधिगम के ज़रिए प्रभावकारी ढंग से पढ़ाया जा सकता है ;

  1.  सही
  2. गलत
  3. संभव नहीं है
  4. केवल इक अवधारणा है

उत्तर– सही

प्रश्न– 10  समेकित शिक्षा निम्नलखित में से किन क्षेत्रों के विकास में सहायक होती है;

  1. सभी
  2. मनोज्ञात्मक क्षेत्र (Psycho-motor domain)
  3. भावनात्मक क्षेत्र
  4. संज्ञात्मक क्षेत्र

उत्तर- सभी

Nishtha M5 Question Answers

MH_M5

प्रश्न 1–  ई– सामग्री निर्माण के निशुल्क एवं ओपन सोर्स सॉफ्टवेयर/मंच है –

  1. HSP
  2. सभी
  3. स्क्रैच
  4. ऑडेसिटी और ओपनशॉट वीडियो एडिटर

    उत्तर – सभी

प्रश्न 2– निम्नलखित में से कौन का कथन सत्य नहीं है

  1. ओपनशॉट वीडियो एडिटर गॆम्स और एनिमेशन बनाने के लिए फ्री ऑनलाइन प्रोग्रामिंग सॉफ्टवेयर है।
  2. फ्री माइंड और फ्री प्लेन, माइंड मैपिंग के निशुल्क सॉफ्टवेयर है, जिनका इस्तेमाल विचारो और अवधारणाओं की चित्र के माध्यम से प्रस्तुतिकरण के लिए किया जाता है।
  3. गूगल फॉर्म (Google forms), काहुट (kahoot), हॉट पोटैटो (hot potato) और मेंटिमीटर (Mentimeter), आंकलन के लिए ऑनलाइन टूल्स/प्लेटफॉर्म है।
  4. स्टलेरियम, जियोजब्रा, कालजियम और एवोगड्रो विषय विशेष निशुल्क और ओपन सोर्स सॉफ्टवेयर है।

     उत्तर- ओपनशॉट वीडियो एडिटर गॆम्स और एनिमेशन बनाने के लिए फ्री ऑनलाइन प्रोग्रामिंग सॉफ्टवेयर है।

प्रश्न  3– ई– पाठशाला है.

  1. हर समय और हर जगह पर निशुल्क उपलब्ध
  2. सभी
  3. सभी शैक्षिक ई- संस्थानों जैसे; पाठयपुस्तक, ऑडियो,  पत्र- पत्रिका अन्य प्रिंट और नॉन- प्रिंट किस्म के शैक्षिक ई- संस्थानो का प्रदर्शन और प्रसार
  4. एक वेब पोर्टल या मोबाईल एप जो छात्रों, शिक्षकों, माता – पिता और शोधकर्ता के लिए शैक्षिक संस्थान उपलब्ध कराता है।

    उत्तर – सभी

प्रश्न 4– एक फ्री और ओपन सोर्स सॉफ्टवेयर है

  1. कोई भी नहीं
  2. जिसे कॉपीराइट धारक से पुन: उपयोग और पुनर्वितरण की अनुमति की आवश्यक होती है
  3. स्वामित्व (proprietary) वाले सॉफ्टवेयर
  4. जिसे उपयोग करने के लिए लाइसेंस की आवश्यकता होती है।

    उत्तर – कोई भी नहीं

प्रश्न 5– आईसीटी समेकित शिक्षण के लिए विषय– वस्तु विश्लेषण की क्या आवश्यकता है।

  1. आईसीटी उपकरणों का उपयोग करके कक्षा में विभिन्न गतिविधियों का आयोजन।
  2. विभिन्न आईसीटी उपकरणों का उपयोग करके शिक्षण दृष्टिकोण या विधियों कि योजना
  3. सीखने के परिणामों को प्राप्त करने और उनका आंकलन करने के लिए उन अवधारणाओं पर जोर दें, जहा आईसीटी को एकीकृत किया जा सकता है,
  4. सभी

उत्तर – सभी

प्रश्न 6– ओपन एजुकेशनल रिसोर्स (OER) है

  1. यह पूर्ण पाठ्यक्रम, पाठ्यक्रम सामग्री, मॉड्यूल, पाठयपुस्तक, स्ट्रीमिंग वीडियो, सॉफ्टवेयर, और कोई भी अन्य उपकरण, सामग्री या तकनीक का samaveshthai को ज्ञान के अभिगमन में मदद करता है
  2. NROER सुलभ स्कूल विषय अवधारणा आधारित एक पुस्तकालय है जिसमे ऑडियो, वीडियो, सीखने कि वस्तुएं, चित्र, प्रश्न बैंक, गतिविधियां/प्रस्तुतियां है , जिन्हें डाउनलोड और साझा किया का सकता है और टिप्पणी की जा सकती है।
  3. अधिगम, शिक्षण और मू्यांकन के लिए उपयोगी स्वतंत्ररूप से उपलब्ध खुलेआम लाइसेंस प्राप्त सामग्री और मीडिया
  4. सभी

उत्तर – सभी

प्रश्न 7– ई – सामग्री है

  1. सूचना को की इलेक्ट्रॉनिक उपकारणों, कंप्यूटर/संगणक जाल – तंत्र इंटरनेट द्वारा उपलब्ध कराई जाए
  2. ररिपॉजिटरी और वेब पोर्टल जैसे NROER , ई- पाठशाला , साक्षात, ओलाब आदि से प्राप्त सामग्री
  3. डिजिटल टेक्स्ट, चित्र, ऑडियो, वीडियो, एनिमेशन, इंटरैक्टिव और सिमुलेशन के रूप में सामग्री।
  4. सभी

उत्तर – सभी

प्रश्न  8– आईसीटी कैसे अधिनियम, शिक्षण और मूल्यांकन में सहयोग देता है ?

  1. श्रव्य- दृश्य सहित ज्ञानेन्द्रिय ग्रहणशील रणनीति प्रदान करता है जिससे अधिगम की वृद्धि होती है।
  2. स्वयं निर्धारित गति से अधिगम और अवधारणा निर्माण को प्रोत्साहित करता है।
  3. अधिगम के साधनों को कहीं और कभी भी अधिगम का अवसर प्रदान करता है।
  4. सभी

उत्तर – सभी

प्रश्न 9– अधिगम एवम् शिक्षण के लिए आई सी टी क्यों महत्वपर्ण हैं?

  1. गुणवत्ता में सुधार के लिए
  2. शिक्षण को प्रभावी बनाने के लिये
  3. सभी
  4. पारंपरिक विधि में बदलाव के लिए

उत्तर- सभी

प्रश्न 10–  आई सी टी संबंधित नहीं है ?

  1. कल्पना (imagine)
  2. प्राप्त करना (receive)
  3. पुन: प्राप्ति (retrieve)
  4. सृजन (creation)

उत्तर – कल्पना (imagine)

Nishtha M4 Question Answers

MH_MH4

प्रश्न –निम्नलिखित  में से कौन सा वाक्य सही है?

  1. लड़के लड़कियों से अधिक मेहनती होते है। 
  2. महिलाओ का स्थान घर है।
  3. लड़के और लड़कियों से बराबरी का व्यवहार करना चाहिए।
  4. लड़कियों को स्कूल नहीं भेजना चाहिए वह शादी के लिए बनी है।

उत्तर-  लड़के और लड़कियों से बराबरी का व्यवहार करना चाहिए।

प्रश्न – जेंडर के बारे में निम्नलिखित में से  क्या सही नहीं है ?

  1. जेंडर महिलाओं, पुरुषो और ट्रांसजेंडर के बीच एक सामाजिक रूप से निर्मित अंतर है। 
  2. जेंडर  महिलाओं, पुरुषो और ट्रांसजेंडर के बीच जैविक अंतर को दर्शता है।
  3. जेंडर सम्बन्ध समय के साथ और लोगो के विभिन्न समूहों के बीच भिन्न होते है।
  4. कोई भी नहीं।  

उत्तर – जेंडर  महिलाओं, पुरुषो और ट्रांसजेंडर के बीच जैविक अंतर को दर्शता है।

प्रश्न-  निम्नलिखित में से कौन सा कथन लड़को/पुरुषो के बारे में इक जेंडर स्टीरियोटाइप नहीं है?

  1. लड़को/ पुरुषो को रोना नहीं चाहिए।
  2. लड़के/पुरुष बच्चे पैदा करने के साथ साथ खाना भी बना सकते है
  3. लड़के / पुरुष बेहतर चालक होते है। 
  4. लड़का / पुरुष परिवार के पालनकर्ता है। 

उत्तर-     लड़के/पुरुष बच्चे पैदा करने के साथ साथ खाना भी बना सकते है

प्रश्न-  निम्नलिखित में से कौन सा गुण लड़को और लड़कियों दोनों के लिए सही है?

  1. स्वतंत्र
  2. मेहनती
  3. सभी
  4. भावुक

उत्तर –   सभी

प्रश्न – क्यायह कथन सही है ‘ राजनीति में सत्ता और अधिकार के पदों को संभालने में पुरुष की तुलना में महिलाएं काम सक्षम है ? 

  1. नहीं, वे सत्ता और अधिकार के पदों को संभालने में पुरुषों की तरह ही सक्षम है।
  2. हां। महिलाएं घर के काम करने के अधिक अनुकूल हैं।
  3. हां। महिलाओं को जैविक रूप से कमजोर यौन (सेक्स) माना जाता है।
  4. हां, वे भावात्मक रूप से कमजोर हैं और निर्णय लेने में सक्षम नहीं हैं।

उत्तर – नहीं, वे सत्ता और अधिकार के पदों को संभालने में पुरुषों की तरह ही सक्षम है।

प्रश्न – निम्नलिखित में से कौन सा कथन जेंडर मिथक नहीं है, पहचानें

  1. लडको और लड़कियों के बीच जैविक अंतर उनकी संज्ञानात्मक क्षमताओं से संबंधित नहीं है।
  2. लड़के तर्कशील होते है और लड़कियां तर्कहीन होती है ।
  3. लड़के के लिए विज्ञान और तकनीक है।
  4. मेंस्ट्रुएशन के दौरान लड़कियों को रसोई में प्रवेश नहीं करना चाहिए।

उत्तर – लडको और लड़कियों के बीच जैविक अंतर उनकी संज्ञानात्मक क्षमताओं से संबंधित नहीं है।

प्रश्न– निम्नलिखित में से कौन सा कार्य लिंग भेद को नहीं दर्शाता है?

  1. परिवार की रोटी कमाने वाला होने के कारण रोहित अपने परिवार के लिए सभी फैसले लेता है।
  2. शारदा अपना ज्यादातर समय रसोई में खाना बनाने में बिताती है।
  3. शेफाली पर्वतारोही बनने के लिए प्रशिक्षण के रही है।
  4. बंटी और उसके दोस्त आमतौर पर टॉय कार और टॉय गन के साथ खेलते हैं।

उत्तर –  शेफाली पर्वतारोही बनने के लिए प्रशिक्षण के रही हैं।

प्रश्न – पुरुषत्व और स्त्रीत्व को संदर्भित करता है

  1. पितृसत्तात्मक
  2. यौन ( सेक्स)
  3. जेंडर
  4. लिंगभेद

उत्तर – जेंडर

प्रश्न – जेंडर और यौन( सेक्स) के बीच आवश्यक अंतर क्या है ?

  1. यौन ( सेक्स) एक जैविक अंतर है जबकि जेंडर पुरुषों और महिलाओं के बीच एक सामाजिक रूप से निर्धारित अंतर है।
  2. जेंडर एक जैविक अंतर है जबकि यौन (सेक्स) पुरुषों और महिलाओं के बीच सामाजिक रूप से निर्धारित अंतर है।
  3. जेंडर और यौन (सेक्स) में कोई अंतर नहीं है।
  4. कोई भी नहीं।

उत्तर – यौन ( सेक्स) एक जैविक अंतर है जबकि जेंडर पुरुषों और महिलाओं के बीच एक सामाजिक रूप से निर्धारित अंतर है।

प्रश्न– निम्नलिखित में से कौन सा कथन लड़कियों/महिलाओं के बारे में स्टरिओटाइप नहीं है?
  1. लड़कियों/ महिलाओं को पतली और सुंदर होना चाहिए।
  2. लड़कियां/ महिलाएं खराब निर्णय लेने वाली होती है।
  3. लड़कियां/ महिलाएं बातूनी होती है।
  4. लड़कियों/ महिलाओं के पास नेतृत्व कौशल है और वे किसी भी पेशे में उत्कृष्टता प्राप्त कर सकती है।

उत्तर – लड़कियों/ महिलाओं के पास नेतृत्व कौशल है और वे किसी भी पेशे में उत्कृष्टता प्राप्त कर सकती है।

Nishtha MH_M5 Answers

Thursday, 10 December 2020

Nishtha MH_M2 Question Answers

MH_M2


Question - Which of the following is not a characteristic of an effective assistant?


Help in decision making

Facilitating behavior change

Facilitate understanding of feelings

Solving problems for the individual


Answer: Solving problems for the individual


Question Which of the following are characteristics of a sensitive teacher?


Being hurt by critics and ratings

Be self conscious

Being able to monitor yourself and others at all times

To suit the needs and problems of the students


Answer: To suit the needs and problems of the students


Question - Teachers need to promote positivity in the classroom environment for students so that students can experience:


Safe and accepted

Protected and uncertain

Separate and viewable

Secluded and alert


Answer: Safe and Accepted


Question - The ability / competence to be able to see situations from another person's perspective is known as:


Know the point of view

Deal with liquor

Reality testing

Sympathetic behavior


Answer: Know the perspective


Question - A teacher can depict / show the quality of sensitivity:


Being aware of the feelings and thoughts of others

Taking the opinion of others

Expressing ideas and integrating others

Ability to work with others


Answer: Being aware of the feelings and thoughts of others


Question - Is there a corresponding feeling?


Feeling and thinking like someone else

Reason with yourself and others

Understanding yourself

Feel sorry for others


Answer: Feeling and thinking like someone else


Question - In case of drunkenness among a group of children, which tactic would you use as a teacher:


Will leave the matter to resolve on its own

Will inform the school principal about the case

Use your authority and the issue will decide

Will make it easier for children to communicate


Answer: Will make it easier for children to communicate


Question - The qualities and skills of teachers to promote health environment in schools / classrooms are as follows


Sensitivity and care

Sensitivity and apprehension

Sensitivity and control

Sympathy and care


Answer: sensitivity and care


Question - In order to have attentive listening skills, a teacher needs to pay attention to the following of students:


Non verbal

 Behavior and actions

All

oral expression


Answer: All


Question - Teachers can communicate real concern and interest to students:


Eye contact

Always giving them their way

Questioning their actions

Giving them priority in activities


Answer: Eye contact

دماغ کو ہر عمر میں جوان رکھنے میں مدد دینے والی آسان عادات

   جون 29, 2021 یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور ت...